سوانح فضل عمر (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 74 of 389

سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 74

میرے لئے نہیں۔حضور کی مذکورہ تقریر بھی اس فن خطابت کا ایک شاہر کار تھی۔جس طرح کثرت سے ہر طبقے اور ہر مکتب خیال کے لوگ اور مختلف مذاہب کے ماننے والے وہاں اکٹھے ہوئے اور جس طرح ہمہ تن گوش رہ کر اس تقریر کوسنا - اخبار الفضل کا نمائندہ اس کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھتا ہے:۔حضور کے تقریر شروع فرمانے کے بعد چند منٹوں میں سامعین پر کچھ ایسا اثر ہوا کہ ہر وہ شخص جو جلسہ گاہ میں موجود تھا مثل تصویر نقی حیرت نظر آتا تھا۔حضور نے خدا تعالے کے رب العالمین ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے تقریر شروع فرمائی پھر اسلام کے سچے اور اعلیٰ مذہب ہونے کے دلائل بیان فرمائے۔بعدہ دنیا میں انبیاء کے آنے کی ضرورت کو واضح طور پر مختصر مگر نهایت موثر و دل نشین الفاظ میں بیان فرمایا۔اس کے بعد انبیاء جو دنیا کی اصلاح کرتے ہیں اس کی تشریح فرمائی۔اور حضرت مسیح موعود نبی اللہ کے ان کا مون کو سر انجام دینے کی طرف سامعین کو توجہ دلائی جو انبیاء دنیا میں آکر کیا کرتے ہیں۔بالآخر آپ نے حضرت مسیح موعود کے پیغام صلح" کی طرف لوگوں کو دعوت دی۔۔۔۔۔۔۔تقریر کا مئوثر اور دلکش ہونا اور یہ امر کہ خدا تعالے نے خود لوگوں کے دلوں میں شرکت جلسہ کی تحریک، فرمائی تھی اس سے ظاہر ہے کہ باوجود اس کے کہ سخت گرمی کا موسم تھا۔لوگ نہایت تنگی سے ایک دوسرے کے ساتھ مل کر بیٹھے ہوئے بلکہ بہت سے کھڑے تھے لیکن پھر بھی جب حضرت خلیفہ ایسی نے دن بجکر دس منٹ پر اپنی تقریر کوختم فرمایا اور کرسی پر رونق افروز ہو گئے تو کوئی شخص بھی نہ اپنی جگہ سے ہلا اور نہ کسی قسم کی آواز نکالی۔تمام کی تمام جلسہ گاہ میں خاموشی اور سکوت کا عالم طاری تھا۔جب کچھ دیر تک لوگ نہ اُٹھے تو حضرت خلیفہ المسیح نے حکم فرمایا کہ اذان کہی جائے۔اور اذان کہی گئی تو