سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 73
نہیں کرتی کسی قطعی نتیجہ تک نہیں پہنچا جا سکتا۔حضرت خلیفہ ایسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے تجویز کی کہ خط و کتابت کی بجائے اس مرحلہ پر معمولی اختلافات گفت وشنید کے ذریعہ مٹانا زیادہ سهل طریق ہے اور کم سے کم وقت میں نتیجہ خیز ثابت ہو سکتا ہے۔لہذا آپ نے ایک وفدا احمد یہ بلڈنکس لاہور اس مرض سے روانہ کیا کہ جلد از جلد سب امور طے کر کے مناظرہ کی تاریخ اور جگہ کا فیصلہ کیا جائے۔یہ وقد اس روز احمدیہ بلڈنگس میں رات کے بارہ بجے تک مصروف گفتگو رہا اور جب تقریباً سب معاملہ طے ہو گیا تو دوسرے روز صبح ڈاکٹر محمد حسین صاحب کی طرف سے از سر تو تحریری خط و کتابت کی پیشکش موصول ہوئی۔اس پر حضرت خلیفہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے فیصلہ فرمایا کہ وہ مزید وقت ضائع کئے بغیر قادیان واپس تشریف لے جائیں اور ایک ایسے با اختیار وفد کو پیچھے چھوڑ جائیں جو اہل پیغام سے مناظرہ کا معاملہ طے کرلے۔لیکن افسوس ہے کہ اس وفد کی تمام تر کوشش بالآخر نا کام ہوئی اور اہل پیغام نے کسی نہ کسی عذر کے تحت خود اپنی پیش کردہ تجویز مناظرہ سے بھی دامن چھڑا لیا۔جہاں تک تیسری تجویز کا تعلق ہے یعنی جلسہ عام کا اہتمام اور اس میں تمام اہل مذاہب کو شمولیت کی دعوت دنیا یہ تجویز خدا کے فضل سے نہایت موثر بلکہ توقع سے بڑھ کر کامیاب ثابت ہوئی۔اس تقریر کا موضوع حضرت مسیح موعود علیہ السّلام کا پیغام تھا۔اور تمام اہلِ مذاہب بیک وقت مخاطب تھے۔آپ کے فن خطابت کا یہ کمال تھا کہ بیک وقت مختلف طبقات اور علم کے مختلف درجے رکھنے والے سامعین کو ایسے رنگ میں مخاطب فرماتے تھے کہ ان میں سے ہر ایک بات کو خوب سمجھتا تھا خواہ وہ عارف ہو یا عامی حتی کہ ایک ان پڑھ کے لئے بھی آپ کی بات کا سمجھنا آسان ہوتا تھا۔اور تقریر کے دوران خواہ کتنی ہی لمبی کیوں نہ ہو ایک ناخواندہ آدمی بھی کبھی یہ محسوس نہ کرتا تھا کہ یہ اس کے فہم و ادراک سے بالا ہے بلکہ مسلسل ہمہ تن گوش رہتا۔بایں ہے ایک عالم بھی ان سادہ اور آسان باتوں کو معمولی نہ جانتا بلکہ ہمیشہ یہ تاثر لے کر اٹھتا تھا کہ وہ ایک ایسے سمندر میں غوطہ زن ہو کر آیا ہے جو علم و عرفان کے جواہر سے پُر ہے علاوہ ازیں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ایک ہی وقت میں مختلف مذاہب کے ماننے والوں کو احمدی کی طرف بلایا جاتا تھا اور تمام عرصہ ہر فرقے اور ہر مذہب کے پیرو مسلسل تقریر کا اپنے ہی آپ کو مخاطب سمجھتے تھے اور کبھی یہ احساس پیدا نہ ہوتا تھا کہ یہ باتیں دوسروں کے لئے ہیں،