سوانح فضل عمر (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 75 of 389

سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 75

۷۵ بریز لوگوں کو اختتام تقریر کا یقین ہوا۔اور وہ بصد حسرت و افسوس اُٹھے اُٹھ کر چلنے لگے چونکہ ہر مذہب و ملت ہر حیثیت، ہر مذاق و خیالات کے لوگ موجود تھے اس لئے کچھ محل تعجب نہ ہوتا اگر حاضرین میں سے کوئی شخص کسی بات پر اظہار ناپسندیدگی دبے لطفی کرتا۔لیکن سامعین پر فرداً فرداً نظر کرنے سے ایسا معلوم ہوتا تھا کہ سب کے سب ہمہ تن گوش ہوش بنے ہوئے کامل توجہ اور پی پی سے لیکچر سنتے میں محو ہیں اور ختم تقریر کے بعد ابھی کچھ اور سُفنے کے منتظر تھے؟ داخبار الفضل قادیان ۱۵ جولائی اور جلد ۳ ص ۲) - لیکن برا ہو حسد کا کہ اس تقریر کی کامیابی بعض معاندین کو ایک آنکھ نہ بھائی۔اور انہوں نے اس کے اثر کو زائل کرنے کے لئے غلط رپورٹنگ کرتے ہوئے معاندانہ حاشیہ آرائی کے ساتھ اس کا ذکر کیا۔جماعت احمدیہ کی طرف سے تو ان امور کا نوٹس نہیں لیا گیا۔کیونکہ یہ حاسدانہ رویہ خود تقریر کی عظمت اور کامیابی پر دال تھا۔لیکن ایک سکھ جریدہ لائل گزٹ نے اس نامناسب رویہ کو سخت ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھا۔معاندانہ رنگ اختیار کرنے میں اہل پیغام کے علاوہ آریہ سماجی اخبارات پیش پیش تھے۔سکھ معاصر لامل گزٹ اپنی اشاعت د راگست میں آریہ سماجیوں کے اس غلط اور غیر منصفانہ رویہ کا ذکر کرتے ہوئے لکھتا ہے :۔مرزا بشیر الدین محمود احمد خلف الرشید مرزا غلام احمد صاحب قادیانی نے گزشتہ دنوں لاہور میں تشریف لا کر ایک دلچسپ اور مفید لیکچر دیا۔لیکن سننے والوں کی تعداد اس قدر زیادہ تھی کہ غریب احمدیوں کو منتظمان جلسہ نے فرش سے اُٹھا کر ایک ناہموار سی ہے فرش جگہ پر جگہ کی قلت کے سبب بیٹھنے کی تکلیف دی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہم نے اسی وقت کہہ دیا تھا کہ جب تک آریہ سماجی فرقہ موجود ہے یہ بیل منڈھے چڑھنے نہ پائے گی۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔اور مرزا صاحب کے اس لیکچر پر ایک آریہ اخبار نے بہت کچھ دروغ بیانی سے کام لے کر ان پر ایسے نا واجب حملے کئے ہیں کہ افسوس آتا ہے ؟ اس سفر کی ایک اور اہمیت یہ تھی کہ آپ نے عورتوں کی خصوصی تربیت کی مہم کا آغاز فرمایا