سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 352
۳۵۲ میں سے ایک یہ تھی کہ ہر شخص خواہ اس کا ذریعہ معاش کوئی بھی ہو اپنے روزمرہ کے کام کے علاوہ کوئی ایسا چھوٹا سا کام محض اس نیت سے کرے کہ اس کی ساری آمد تبلیغ اسلام کے لئے پیش کر دے۔آپ کی اس تحریک پر بھی جماعت کے مردوں اور عورتوں نے برائیر جوش کے ساتھ حصہ لیا۔عورتوں نے جس اخلاص اور دلی جذبہ کے ساتھ اس تحریک پر لبیک کی اس کا اظہار حسب ذیل روایت سے ہوتا ہے۔ایک خاتون جن کا حضرت خلیفہ اپنے الثانی رضی اللہ عنہ کے حرم اقول حضرت سیدہ ام ناصر رضی اللہ عنہا کے ہاں آنا جانا تھا، اس بارہ میں روایت کرتی ہیں :- حضرت خلیفہ ثانی کے وقت میں مستورات کو بھی چندہ کی تحریک کی جاتی اور رستورات سخوشی شامل ہوتیں۔جب حضور خلیفہ ثانی نے تحریک شروع کی کہ اپنے ہاتھ سے کام کر کے چندہ دیا جائے تو میں حضور کے گھر اُمیم ناصر کے پاس بیٹی تھی۔حضور نے کہا میں سرمہ پیس کر فروخت کر کے چندہ دُوں گا اپنے ہاتھ سے کام کر کے " میں نے کہا۔حضور میں بھی ساتھ سرمہ میسوا دوں گی۔ساتھ شامل ہو جاؤں گی۔فرمایا۔نہیں نہیں یہ بات نہیں۔لیکن خود اپنے ہاتھ سے پیسوں گا اور تم خود کچھ کام کہ وہ دو تین دن کے بعد اسم ناصر کے گھر پھر گئی اور اہم ناصر سے کہا کیا کروں کام مجھے کوئی آتا نہیں۔چندہ ضرور دینا ہے " امیم ناصر نے کہا یا مجھے بھی یہ بڑی سوچ ہے کیا کام کیا جائے۔میاں رفیق وہاں بیٹھے ہوئے تھے۔بولے امی جان میرے بوٹوں کو پالش نہیں کر دائی یہ اسم ناصر ہنس پڑیں اور کہنے لگیں یا میں تیرے بوٹوں کوہ پائش کروں گی۔تم مجھے ایک آنہ دے دیا کرو۔لیکن وہ چندہ میں دے دوں گی " میں نے کہا میں تو ایک مہینہ کسی کے گھر کام کروں گی یہ امیر ناصر نے فرمایا " اور کسی کے پاس کیوں جاتی ہو۔میرے پاس آٹھ دونوں بہنیں بیٹھا کریں گی۔حضور کے کپڑوں کی مرمت تم کر دیا کرنا۔پھر سفنے لگیں اور کہا یا مہینہ کیا ہوگی؟" میں نے کہا ابھی تو کچھ نہیں کر سکتی۔