سوانح فضل عمر (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 353 of 389

سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 353

۳۵۳ دیکھو خدا جو سابان بنائے۔خدا کی حکمت بیرت انسبی کا جلسہ آگیا۔عورت میں دکانیں لگا یا کرتی تھیں۔میں نے کہا۔میں تو پان بیچوں گی۔اقم ناصر نے کہا۔ہم دونوں بہنوں کا حصہ ہوگا۔میں پان منگوا دونگی پان اور کتھے تو اہم ناصر نے دیا اور دوسری چیزیں چھالیہ الائچی وغیرہ میں نے اپنی ڈالیں۔۔۔۔۔۔۔۔ہماری نیست چندہ دینے کی تھی۔خدا کے فضل سے میرے پان خوب ہے۔پچاس پان کیا چیز تھی۔پان ہاتھوں ہاتھ بک گئے۔اقیم ناصر بھی میرے پاس آئیں اور کھا۔میں کیا کام کر سکتی ہوں۔میں نے کہا آپ جائیں میں خود یہ کام کرلوں گی۔جب گھر میں آکر ڈبہ میں ڈالی ہوئی نقدی کا حساب کیا تو اس میں ہجو میں روپے نکلے۔بارہ روپے امیم ناصر کے اور بارہ روپے میرے حصے میں آئے۔میں وہ بارہ روپے لے کر حضور خلیفہ ثانی کی خدمت میں اسی وقت حاضر ہو گئی۔اور عرض کیا وہ حضور یہ لیں پیسے لیں تو اپنا کام کر کے آئی ہوں۔آپ نے تو مجھ سے سُرمہ نہیں پیسوایا تھا۔میرا بھی خدا نے کام بنا دیا " اس روایت سے اس امر پر بھی روشنی پڑتی ہے کہ کس طرح حضرت خلیفہ المسیح الثانی منی لاله تعالے عنہ ہر اُس تحریک پر جو جماعت کے سامنے پیش کرتے تھے اول خود عمل فرماتے۔نیکی کی عادت ڈالنا جب حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے بجنہ اماءاللہ کی تنظیم قائم فرمائی۔تو ستورات میں بنی نوع انسان کی سچی ہمدردی پیدا کرنے سے متعلق بعض ہدایات دیں فرمایا و غرباء کی ہمدردی بھی ایک ضروری بات ہے اس کے دو طریق بہت عمدہ ہیں۔بیوہ اور غریب عورتوں کی دعوت لجنہ کی طرف سے ہوا کرے اور اپنے ہاتھوں سے سب کام کریں اور ان کے ہمراہ بیٹھے کہ کھا دیں تاکہ ان کے دل پر محبت کا اثر ہو۔اس طرح تکبر کے کپڑے کو نکال دور یتیم بچوں کوئی پارٹیاں دی جاویں وہ محبت کے طالب