سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 351
۳۵۱ جو انہوں نے بطور یادگار رکھا ہوا تھا مرحومہ کی طرف سے چندہ میں دے دیا ہے پانچویں مثال میاں عبد اللہ صاحب سنفوری ریاست پٹیالہ کی بیوی ، بیٹی اور بہو کی ہے۔جنہوں نے نہایت محدود ذرائع آمدن کے باوجود دو سو روپے سے اوپر چندہ بصورت نقد اور زیور دیاک را افضل یکم مارچ ۱۹۳۳ به انفسکم ۲۸ ر فروری سه) ۶۹۶۳ مختلف احمدی دوستوں نے اپنے گھروں میں احمدی عورت کے اخلاص کے جو نظارے دیکھے ان کا ایک نمونہ ڈاکٹر شفیع احمد صاحب محقق دہلوی ایڈیٹر روزنامہ اتفاق دہلی کے الفاظ میں پیش کیا جاتا ہے۔آپ لکھتے ہیں:۔جمعہ کی نماز جماعت دہلی خاکسار کے دفتر میں پڑھنتی ہے جو لب سڑک واقع ہے۔گزشتہ جمعہ کو خطیب نے حضرت اقدس کا خطبہ جو الفضل میں چھپا ہوا تھا سُنایا۔یہاں سوائے میری اہلیہ کے باقی تمام مرد تھے اور میں یہ سوچ رہا تھا کہ جنگیم سے نماز کے بعد کہوں گا کہ مسجد کے لئے آپ اپنی پازیب دے دیں کہ اتنے میں دروازہ کی کھٹکھٹاہٹ میرے کان میں آئی اور میں گھر میں گیا۔جہاں وہ مصلے پر بیٹھی ہوئی خطبہ سُن رہی تھیں اور ان کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے کچھ بات نہیں کی اور اپنے گلے سے پنج لڑا طلائی تار جو غالباً تین سو روپے کا تھا مجھے دے دیا جو میں نے اسی وقت خطیب صاحب کو لا کر دے دیا را افضل ۲۶ فروری ۶۱۹۲۳ص۹) عورت کو اس کا کھویا ہوا مقام دلوانے اور اس کے کردار کی از سر نو تعمیر کیلئے آپ نے یہ حکیمانہ طریق اختیار کیا کہ نیکی کی ہر تحریک میں مردوں کے ساتھ احمدی عورت کو بھی مخاطب فرماتے۔سلسلہ کی بڑھتی ہوئی ضروریات کے پیش نظر حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ جماعت کے مالی وسائل بڑھانے کے بارہ میں کبھی غور کرتے رہتے تھے۔اس سلسلہ میں جو مختلف تجاویز اور تحریکات آپ نے جماعت کے سامنے پیش کیں اننا