سوانح فضل عمر (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 350 of 389

سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 350

تیرا یہ سیح کس شان کا تھا جس نے ان پٹھانوں کی جو دوسروں کا مال لوٹ لیا کرتے تھے اس طرح کا یا پلیٹ دی کہ وہ تیرے دین کے لئے اپنے ملک اور اپنے عزیز اور اپنے مال مشتریان کر دینے کو ایک نعمت سمجھتے ہیں " الفضل ۲۱ فرود دی ۱۹۲۳ ص ) اخلاص اور قربانی میں قادیان سے باہر کی مستورات بھی کسی طرح پیچھے نہ تمھیں خیا بیرون قادیان کی احمدی مستورات کے جذبۂ قربانی کی بعض مثالیں دیتے ہوئے آپ نے فرمایا: قادیان سے باہر کے خاص چندوں میں سے سب سے اول نمبر پر کپتان عبد الکریم صاحب سابق کمانڈر ان چیف ریاست خیر تو یہ کی اہلیہ کا چندہ ہے جنہوں نے اپنا کل زیورہ اور اعلیٰ کپڑے قیمتی ڈیڑھ ہزار روپیہ فی سبیل اللہ دے کر ایک نیک مثال قائم کی ہے۔دوسری مثال اسی قسم کے اخلاص کی چوہدری محمد حسین صاحب صدر قانونگور سیالکوٹ کے خاندان کی ہے۔ان کی بیوی بھانج بہو نے اپنے زیورات قریبا سب کے سب اس چندہ میں دے دیئے جن کی قیمت اندا نرا دو ہزانہ رویہ تک پہنچتی ہے۔تیسری مثال اسی قسم کے اخلاص کے نمونہ کی سیٹھ ابراہیمہ صاب کی صاحبزادی کی ہے اس مخلص بہن نے بھی اپنے گل زیورات جو اندازاً ایک ہزار روپے کی قیمت کے ہوں گے چندہ میں دے دیتے ہیں۔چوه وسفی مثال اعلیٰ درجہ کے اخلاص کی خان بہادر محمد علی خانصاحب اسسٹنٹ پولیٹکل افسر چکدرہ کی اہلیہ صاحبہ اور دختر کی ہے جنھوں نے اپنا زیور جس کی قیمت اندازاً ایک ہزار روپیہ سے زائد ہو گی اس چندہ میں دے دیا بلکہ خان بہادر صاحب کی اہلیہ صاحبہ نے اپنی مرحومہ دختر کا ایک زیور بھی