سوانح فضل عمر (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 349 of 389

سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 349

۳۴۹ پھر یہ بھی ایمان کی علامت ہے کہ کئی لوگ لکھ رہے ہیں آپ دعا فرمائیں میری بیوی چندہ دینے میں کمزوری نہ دکھائے۔۔۔۔۔پھر بعض لکھ رہے ہیں کہ وفات یافتہ بیوی کی طرف سے چندہ دینے کی اجازت دی جائے۔غرض یہ ایسا نظارہ ہے کہ جو اپنی نظیر نہیں رکھتا اور جس کا نمونہ صحابہ کے زمانہ میں ہی پایا جاتا الفضل در تاریخ ۶۱۹۲۳ ) ہے۔قادیان کی مستورات کی قربانیوں کا ذکر کرتے ہوئے آپ نے ایک غریب عورت کی قربانی کی ایک ایسی مثال پیش کی جس پر ہمیشہ امراء بھی رشک کرتے رہیں گے۔فرمایا :- " "قادیان کی عورتوں کا چندہ پہلے ہی جلسہ میں ساڑھے آٹھ ہزار پہنچ گیا ہے اور انھی بڑھ رہا ہے اور غالباً کچھ تعجب نہیں کہ دس ہزار تک پہنچ جائے۔جس اخلاص اور جوش سے انہوں نے چندہ دیا ہے۔اس کا اندازہ غریب عورتوں کے چندہ سے کیا جا سکتا ہے جن کی آمد کا کوئی ذریعہ نہیں۔ایک اور پٹھان عورت جو نہایت ضعیف ہے اور چلتے وقت بالکل پاس پاس قدم رکھ کر چلیتی ہے میرے پاس آئی اور اس نے دو روپے میرے ہاتھ پر رکھ دیئے۔۔۔اس کی زبان پشتو ہے اور وہ اردو کے چند الفاظ ہی بول سکتی ہے اپنی ٹوٹی پھوٹی زبان میں اپنے ایک ایک کپڑے کو ہاتھ لگا کر کہنا شروع کیا۔یہ دوپٹہ دفتر کا ہے یہ پاجامہ دفتر کا ہے۔یہ جوتی دفتر کا ہے۔میرا قرآن بھی دفتر کا ہے نینی میرے پاس کچھ نہیں۔میری ہر ایک چیز بیت المال سے مجھے ملی ہے۔اس کا ایک ایک لفظ ایک طرف تو میرے دل پر نشتر کا کام کر رہا تھا دوسری طرف میرا دل اس محسن کے احسان کو یاد کر کے جس نے ایک مردہ قوم میں سے ایسی زندہ اور سر سبز لہو میں پیدا کر دیں شکر و امتنان کے جذبات سے لبریز ہو رہا تھا اور میرے اندر سے یہ آوانہ آرہی تھی خدایا