سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 348
جرمنی کے نو مسلم بھائیوں کے لئے مسجد تیار کروائی ہے تو یورپ کے لوگ اپنے اس خیال کی وجہ سے جو مسلمان عورتوں کے متعلق ہے کس قدر شرمندہ اور حیران ہوں گے اور جب وہ اس مسجد کے پاس سے گزریں گے تو اُن پر ایک موت طاری ہوگی اور مسجد باوانی بلند ہر وقت پکارے گی کہ پادری جھوٹ بولتے ہیں جو یہ کھتے ہیں کہ عورت کی اسلام میں کچھ حیثیت نہیں " والفضل در فروری ۱۹۲۳ء مث) احمدی عورت ان توقعات پر کس طرح پوری اتری ، یہ ایک طویل ایمان افروز داستان ہے جس کی تفصیل بیان کرنے کا یہ موقع نہیں تاہم قارئین کے سامنے محض ایک دو جھلکیاں پیش کرنے پر اکتفا کی جاتی ہے تاکہ وہ اندازہ کر سکیں کہ آپ کے خطابات کے نتیجہ میں احمدی خاتون نحس قوت اور جذبہ کے ساتھ خدمت دین پر کمربستہ ہو چکی تھی۔تحریک مسجد برلن کے نتائج کا ذکر کرتے ہوئے آپ نے ایک خطبہ جمعہ میں فرمایا :- " میں نے اس مسجد کی تحریک کے لئے یہ شرط رکھی تھی کہ احمدی عور توں کی طرف سے یہ مسجد ہو گی جو ان کی طرف سے نو مسلم بھائیوں کو بطور ہدیہ پیش کی جائے گی اب سجائے اس کے کہ وہ غور میں نہیں کمزور کہا جاتا ہے اس تحریک کو سنکر سمجھے سیٹیں عجیب نظارہ نظر آیا اور وہ یہ کہ اس تحریک پر اس وقت تک گیارہ عورتیں احمدیت میں داخل ہو چکی ہیں تا کہ وہ بھی اس چندہ میں شامل ہو سکیں۔۔۔۔۔۔۔میں سمجھتا ہوں کہ یہ عورتیں پہلے ہی احمدی تھیں کوئی اس لئے مذہب نہیں بدلا کرتا کہ چندہ دے۔وہ پہلے احمدی تھیں مگر ان میں احمدیت کے اظہار کی جرات نہ تھی۔اب انہوں نے دیکھا کہ اگر اب بھی جرات نہ کی تو اس ثواب سے محروم رہ جائیں گی۔گویا اس طرح اس تحریک نے گیارہ روحوں کو ہلاکت سے بچالیا اور یہ پہلا پھل ہے جو اس تحریک سے ہم نے چکھا ہے" اسی خطبہ کے تسلسل میں حضور رضی اللہ عنہ نے فرمایا :-