سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 347
انداز تربیت اور ٹھوس عملی پروگرام آپ کا طریق تربیت پر حکمت اور پُر سوز تھا۔آپ کی نصائح میں درد بھی تھا اور گہری حکمت بھی پائی جاتی تھی۔آپ محض نصیحت ہی نہ کرتے بلکہ ٹھوس اور واضح استدلال کے ساتھ اس کی حکمت اور افادیت بتا کہ ذہنوں کو قائل کرتے۔آپ کی باتیں خلوص میں ڈوبی ہوئی ہوتیں جو قلوب کو متاثر کرتیں اور جذبات میں ایک نیک ہیجان پیدا کر دیتی تھیں سے سخن کنه دل برون آید نشیند لاجرم بر دل آپ نے احمد می عورت کے اخلاق کی تعمیر کے لئے محض زبانی نصائح پر انحصار نہ کیا بلکہ ایسے عملی پروگرام دیئے اور ان پر عمل کروایا جس کے نتیجہ میں انہیں نیک کاموں سے ذاتی محبت پیدا ہو گئی اور وہ اس ابدی صداقت سے اچھی طرح آشنا ہو گئیں۔کہ حقیقی اور دائمی اور غیر فانی پاکیزہ لذت خدمت دین اور خدمت خلق کے نتیجہ میں حاصل ہوتی ہے۔احمدی خواتین سے ایک منفرد قربانی کی تحریک عورتوں میں خدمت دین کا جذبہ پیدا کرنے کے بعد آپ نے اُن پر خدمت دین کی بھاری قومی ذمہ داریوں کا بوجھ اس توقع اور یقین کے ساتھ ڈالا کہ وہ اسے بشاشت قلب کے ساتھ قبول کریں گی اور تمام توقعات پر پوری اُتریں گی۔چند سالہ تربیت کے بعد ہی آپ نے جان لیا تھا کہ اب وقت آچکا ہے کہ احمدی عورت کے کردار کو یورپ کی آزاد قوموں کے سامنے اسلام کی نمائندگی میں ایک نمونہ کے طور پر پیش کیا جا سکے۔چنانچہ ۱۹۲۳ء میں جب جرمنی میں پہلا خدا کا گھر بنانے کا سوال پیدا ہوا تو آپ نے مستورات کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا :- میرا یہ منشاء ہے کہ جرمنی میں مسجد عورتوں کے چندہ سے بنے کیونکہ یورپ میں لوگوں کا یہ خیال ہے کہ ہم میں عورت جانوروں کی طرح سمجھی جاتی ہے۔جب یورپ کو یہ معلوم ہوگا کہ اس وقت اس شہر میں جو دنیا کا مرکز بن رہا ہے اس میں مسلمان عورتوں نے به