سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 327
نکلے گا۔کہ ہر طرفت اس کے نام کی دھوم مچ جائے گی۔اور غیر تو غیر خود آریوں کو اس بات کا بر ملا اقرار کرنا پڑے گا کہ اس عظیم رہنما کی قیادت میں تحریک احمدیت آریہ سماج کے لئے ایک انتہائی مہلک خطرہ کی حیثیت رکھتی ہے۔کون اس وقت یہ کہہ سکتا تھا کہ جس بیتے کے متعلق یہ دعوی کیا جا رہا ہے کہ خود اس کے اپنے گاؤں میں بھی اس کے نام سے کوئی انف نہیں رہے گا۔وہ دن دور نہیں کہ وہ صرف ایک گاؤں یا ضلع یا صوبہ میں ہی نہیں بلکہ تمام بر صغیر ہندوستان میں شہرت پائے گا۔اور اس پیشگوئی کرنے والے کے متبعین ہی خود اس شہرت کا ذریعہ بنائے جائیں گے۔یہ ایک تاریخی حقیقت ہے جسے جھٹلایا نہیں جا سکتا۔کہ اگر چهہ ہندوستان کے مسلمانوں میں تو حضرت مرزا محمود احمد کا ر زاریش تھی سے پہلے بھی شناس تھے لیکن ہندوستان میں بسنے والے ہندوؤں کی اکثریت آپ کے نام سے نا آشنا تھی بلکہ جماعت احمدیہ کے وجود سے بھی نا واقف تھی۔تحریک شدھی ہی ملک گیر شہرت کا وہ پہلا زینہ ثابت ہوئی جسے طے کرتے ہوئے تمام ہندوستان میں آپ کا شہرہ بام عروج پر جا پہنچا۔اور دشن بھی آپ کی عظیم قیادت کو خراج تحسین پیش کرنے پر مجبور ہو گیا۔تحریک شدھی اس پہلو سے بھی ایک دلچسپ مطالعہ کا مواد پیش کرتی ہے کہ حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد کی ولادت سے قبل آریہ سماج اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مابین ایک فیصلہ کن مجادلہ ہوا۔اس موقع پر بدقسمتی سے خود مسلمان علماء اور مشاہیر بھی احمدیت کے مقابل پہ آریہ سماج کا ساتھ دے رہے تھے۔جب حضرت مسیح موعود علیہ سلام نے فرنہ ند موعود کی پیشگوئی فرمائی تو آریوں کی طرف سے اس شگوئی پر جب بھی کوئی بھیتی کسی جاتی مسلمان علماء آریوں کے ساتھ مل کہ آپ ہنستے اور چھینٹے اڑاتے۔جب بھی لیکھرم کوئی تعلی کرتا تو قہقہوں کی آوازوں میں مسلمان علماء کی آواز میں نمایاں ہو کر سنائی دیتیں۔جب بھی وہ آپ کی تکذیب میں اخبارات در سائل کے چہرے سیاہ کرتا۔مسلمان صحافیوں کے قلم اس کی تائید میں رواں دواں نظر آتے۔اور ہر ایسے موقع پر ہندوستان کی فضا میں آریوں کی طرف سے بھی اور مسلمانوں کی طرف سے بھی یہ شور بلند ہوتا کہ (نعوذ باللہ مرزا قادیانی کی پیش گوئی جھوٹی نکلی۔لیکن اللہ تعالے کو کچھ اور ہی منظور تھا۔اور ایک ایسا بھی وقت آنا تھا کہ خود اسی موعود بیٹے کے ہاتھوں تک اٹھا کر آریوں نے بھی بزبانِ حال یہ گواہی دینی تھی کہ لیکھرام اپنی ہر بات میں جھوٹا نکلا اور مرزا غلام احمد اپنے ہر قول