سوانح فضل عمر (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 326 of 389

سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 326

۳۲۶ تحریک شد بھی اور اس کا پیشگوئی مصلح موعود کے ساتھ ایک خاص تعلق شدمی کے معرکے میں اگرچہ دوسرے مسلمانوں نے بھی کسی حد تک کام کیا۔لیکن جماعت احمدیہ کے لئے یہ مقابلہ ایک فیصلہ کن حیثیت رکھتا تھا۔آریہ سماج ، ہندومت کے احیائے کو کی ایک ملک گیر اور طاقتور تحریک تھی جو خصوصاً اہل اسلام کے خلاف بڑے جارحانہ اور خوفناک عزائم رکھتی تھی۔دوسری طرف مسلمانوں کی طرف سے اگر اس تحریک کے مقابلے کی کوئی طاقت رکھتا تھا تو وہ جماعت احمدیہ کے سوا کوئی نہ تھا۔نہ کوئی اس حد تک منتظم تھا نہ کسی کو ایسا با خدا اور مدبر رہنما میتر تھا نہ کسی کو اپنے وسائل مجتمع کر کے بروئے کار لانے کی قدرت تھی۔ز تنظیم تھی نہ مرکزیت نہ سلیقہ نہ کام کو مستقل مزاجی کے ساتھ چلانے کی صلاحیت تھی۔پس جماعت احمدیہ ہی وہ مسلمان فرقہ تھا جسے اس دور میں فی الحقیقت تمام عالم اسلام کی نمائندگی کا موقع ملا۔اور ہر میدان مقابلہ میں اس نے اپنے دشمن کو شکست پر شکست دی۔یہاں تک کہ ناکام اور خائب و خاسر ہو کر اسے میدان مقابلہ سے فرار کے سوا کوئی چارہ کار نظر نہ آیا۔یہ سب کچھ ہوا لیکن کسی کا خیال اس طرف نہ گیا کہ دراصل یہ اسی مقابلہ کی ایک نئی شکل ہے جو ایک لمبا عرصہ پہلے حضرت مرزا غلام احمد مسیح موعود علیہ السّلام اور آرید الم رہنما پنڈت لیکھرام کے مابین ہوا تھا۔اس وقت کون کہہ سکتا تھا کہ لیکھرام بڑی تعقی کے ساتھ جس موجود بچے کے خلاف ایک منحوس پیش گوئی کر رہا ہے خود اس کی اپنی قوم ہی ایک دن اس کی برتری اور عظمت کا ڈھنڈورا پیٹے گی ؟ اس وقت جب لیکھرام یا اعلان کہ رہا تھا کہ آریہ سماج کے خدا نے اسے مطلع کیا ہے کہ اگر یہ بچہ پیدا ہو بھی گیا تب بھی تین سال کے اندر اندر اس کا نام ونشان مٹا دیا جائے گا۔قادیان سے باہر اس کا شہرت پانا تو درکنار خود قادیان میں بھی اس کے نام سے کوئی آشنا نہ رہے گا۔کون کہہ سکتا تھا کہ وہی بچہ ایک دن آریہ سماج کے مقابلے پر قرآن کی تلوار ہے کہ اس شان کے ساتھ