سوانح فضل عمر (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 311 of 389

سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 311

۳۱۱ تحریک شدھی بیسویں صدی کے اوائل میں بعض مخلص مسلمان رہنماؤں کو یہ روح فرسا خبر ملی کہ نادۃ العلماء اور علی گڑھ کی مسلم یونیورسٹی کے ارد گر دینے والے بعض ملکانہ راجپوتوں کو ہندو پنڈت شده" کر کے اسلام سے منحرف کر رہے ہیں۔مولانا شبلی نعمانی کو اس خبر سے ایسا شدید دھچکا لگا کہ ان کا غم و غصہ بے ساختہ ان لفظوں میں ڈھل گیا:۔جس وقت میں یہاں سے چلا ہوں میری جو حالت تھی، یہ طلبہ ندوہ کے جو یہاں بیٹھے ہیں وہ اس کے شاہد ہوں گے کہ میں نے اس وقت کوئی کالی نہیں اُٹھا رکھی تھی جو میں نے ان ندوہ والوں کو نہ سُنائی ہوگی۔کہ اے بے حیاؤ ! اور اسے کم بختو ! ڈوب مرو۔یہ واقعات پیش آئے ہیں۔ندوہ کو آگ لگا دو اور علی گڑھ کو بھی پھونک دو یہی الفاظ میں نے اُس وقت بھی کیے تھے اور آج بھی کہتا ہوں کیا ہے اس صورتِ حال سے موثر طور پر نمٹنے کے لئے انہوں نے اپریل س پر میں لکھنؤ کے مقام پر تمام ہندوستان کے مسلمان مشاہیر کی ایک کانفرنس طلب فرمائی۔علامہ شبلی کے سوانح نگار مولانا سید سلیمان ندوی اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں :- مولانا یہ چاہتے تھے کہ اشاعت کے کام تمام فرقے مل کر کریں۔اسی لئے مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب) جواب خلیفہ قادیان ہیں اور خواجہ کمال الدین صاحب تک کی شرکت سے انکار نہیں کیا گیا اس پر اسی جلسہ کے دوران میں مولانا پر یہ الزام رکھا گیا کہ انہوں نے قادیانیوں کو جلسہ میں کیوں شریک کیا ؟ اور ان کو تقریر کی اجازت کیوں دی ؟ نه اس کا اثر مولانا شبلی پر یہ ہوا کہ مولانا بیمار اور پراگندہ خاطر ہو کہ مولوی عبدالسلام صاحب اور سیرت کو لے کر بمبئی روانہ ہو گئے اور دو چار ماہ کے غور و فکر کے لے حیات شبلی 0 - 000 - سے حیات شبلی م۵۶ -