سوانح فضل عمر (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 312 of 389

سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 312

۳۱۴ بعد جولائی ۱۹۱۳ء کو ندوہ سے مستعفی ہو کر سبکدوش ہو گئے اور سے کر کام کی ساری تجویز میں درہم برہم ہو کر رہ گئیں پیش اس واقعہ کے بعد ملکانہ کے ہندو پنڈت تو مسلسل مسلمانوں کو شُدھ کرنے میں مشغول رہے لیکن مسلمان علماء اس عظیم فتح کی خوشی میں اطمینان سے اپنے گھروں میں جا سوئے کہ وہ قادیانیوں کو اسلامی جہاد میں شرکت سے باز رکھنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔وقت گزرتا رہا۔یہاں تک کہ ماریچ سائد کی ایک نامسعود صبح مسلمانان ہند پر اس حال میں طلوع مد ہوئی کہ آریہ سماجی رہنما اپنی فتح کے شادیانے بجا رہے تھے۔اور اسلام کا شدید معاند شردھانند بڑے فخر سے یہ اعلان کر رہا تھا کہ :۔نواح آگرہ میں راجپوتوں کو تیز رفتاری سے شدھ کیا جا رہا ہے۔اور اب تک چالیس ہزار تین سو را جیوت ملکانے ، گوجر اور جاٹ ہندو ہو چکے ہیں۔ایسے لوگ ہندوستان کے ہر چھتے میں ملتے ہیں۔یہ پچاس ساٹھ لاکھ سے کم نہیں اور اگر ہندو سماج ان کو اپنے اندر جذب کرنے کا کام جاری رکھے تو مجھے تعجب نہ ہوگا کہ ان کی تعداد ایک کروڑ تک ثابت ہو جائے " ہے یہ اعلان کیا تھا ایک ہم کا خوفناک دھماکہ تھا جس نے مسلمانانِ ہند کو مشرق سے غرب تک ہلا کر رکھ دیا اور اس عجیب حال میں بیدار کیا کہ سینے چاک اور دل فگار تھے۔ہندوؤں نے صرف اسی اعلان پر اکتفا نہ کی بلکہ شدھی کی تحریک کو سارے ہندوستان میں پھیلا دینے کے لئے ایک عام بگل بجا دیا۔جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمانوں میں ہر طرف ایک شور آہ و بکا بیا ہو گیا۔اور مسلمان اخبارات بڑے موثر اور پر درد انداز میں اپنے علماء اور دیگر راہ نماؤں سے اپیلیں کرنے لگے کہ وہ اپنے باہمی اختلافات کو بھلا کر خدمت اسلام کے لئے آگے آئیں۔اور میں فرقے کو جس قدر توفیق ملے ملکا نہ کئے مسلمانوں کو مرتد ہونے سے بچانے کی کوشش کرے۔چنانچہ مختلف مسلمان فرقوں کی طرف سے متعد و مہمات کا آغاز کیا گیا اور لکھو کھا روپیہ چندہ جمع کرنے کی اپیلیں جگہ جگہ شائع ہونے لگیں اسی طرح جانی قربانی کے لئے بھی مجاہدین کو بلایا گیا۔شیعوں نے ایک الگ مہم کا آغاز کیا کہ وہ اپنے طور پہ ارتداد کی اس خوفناک رو کو پلیٹ سکیں۔اس وقت ایک مشہور اخبار لے حیات شبلی ص۵۷ کے اخبار پرتاپ لاہور ۶ ار تاریخ ۱۹۲۳ مگا -