سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 309
٣٠٩ کی ہنگامہ خیزیوں میں کو دے بغیر دور بیٹھے ہوئے کسی کا اچھے مشورے دے دینا کوئی مشکل کام نہیں۔جب ایک سیاست دان عملی میدان میں قدم رکھتا ہے۔تو ایسی مشکلات اُسے درپیش ہوتی ہیں کہ ان کے حل کے لئے اسے بعض اوقات بڑے بڑے سنہری اصول بھی قربان کر دینے پڑتے ہیں۔یہ اصولوں کی باتیں محض دور کی آنکھ کے دیکھنے کی چیزیں ہیں۔عمل کی دنیا میں بعض اوقات ان کی کوئی حیثیت نہیں رہتی۔خصوصاً اعلیٰ اخلاقی اصولوں کو صحیح و سالم قائم رکھنا سیاست کے دنیوی خار زاروں میں تو کسی طرح ممکن نہیں لیکن حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کی شخصیت اس اعتراض کی لغویت کو اپنے عمل سے آشکارا کر چکی تھی۔آپ کی زندگی میں ایسے مواقع بھی آئے جب کہ آپ کو عملی سیاست میں بھی دخل دینے کا موقع ملا اور اپنے اصولوں کو قربان کئے بغیر بلکہ انہی کی مدد سے آپ نے حیرت انگیز نتائج حاصل کئے۔حضرت خلیفة المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کی زندگی میں ایسے کئی مواقع پیدا ہوئے کہ جب آپ کو عملاً اسلام کی سربلندی اور ملت اسلامیہ کی فلاح وبہبود کی خاطر ایسے میدانوں میں اقدام کرنا پڑا جو بظا ہر سیاسی نوعیت کے تھے اور دنیا کی اصطلاح میں ان کا تعلق یقینا سیاست ہی سے تھا۔مگر جیسا کہ پہلے بیان کیا جا چکا ہے حضرت خلیفہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے خالصہ دینی مصالح اور مقاصد کے پیش نظر ان میں دلچسپی لی اور اس دوران بلا تامل دینی کاربندہ رہے اور سیاسی مصالح پر انہیں کبھی قربان نہ ہونے دیا۔اصولوں پر حتی۔ایسے مواقع بھی آپ کی زندگی میں آئے جبکہ آپ نے جماعت احمدیہ کی کوششوں کو مسلمانوں کی کسی وسیع تحریک کے تابع کر کے ملت اسلامیہ کی عظیم الشان خدمت سرانجام دی اور ایسے مواقع بھی پیش آئے کہ جب خود مسلمانان ہند نے کسی تحریک کی ذمہ داری آپ کو سونچی اور تمام مسلمانوں کی راہ نمائی کرتے ہوئے آپ نے انہیں کامیابی سے ہمکنار کیا۔پھر ایسے مواقع پر بھی آپ کو خدمت کی توفیق ملی جب ہندو سلم نزاع کی چنگاری مشتعل ہو کر سارے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے لینے والی تھی۔مگر آپ کی فراست اور تد تیرنے ایسی راہ عمل تجویز کی جس سے فتنہ و فساد کی آگ بھی ٹھنڈی پڑ گئی اور بے ضرورت قربانی اور نقصان کے بغیر اہل اسلام کا مقصد بھی حاصل ہو گیا۔یہ ایک دلچسپ اور طویل داستان ہے جس کا تذکرہ آگے چل کر موقع اور محل کے مطابق کیا جائے گا۔فی الحال ہم اس سے ملتے جلتے ایک موضوع پر آپ کی عملی جد و جہد کی ایک ایسی مثال پیش کرتے ہیں جو فی الحقیقت تو ندسی جہاد کی حیثیت رکھتی تھی