سوانح فضل عمر (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 308 of 389

سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 308

لیتے۔دل اور زبان دونوں کی لگام کھینچی رہتی ، فوری تاثیہ ہیجانی جذبات انفعالی انفجار اور بد حواسانہ جلد بازی کی جگہ تدبر و دانشمندی اور ضبط فکر و اعتدال رائے کا سنجیدہ مظاہرہ کیا جاتا۔ایک ایسے هم معاملہ پر طبع آزمائی کرنے میں اگر تھوڑی سی دیر ہو جائے تو کوئی قیامت نہیں ٹوٹ پڑتی۔لیکن جلد بازی اور بے لگامی سے خطر ناک اور لا علاج ٹھوکریں لگ سکتی ہیں۔فرانسیسی ضرب المثل ہے جو گولی چل چکی وہ آدھے راستے سے واپس نہیں آئے گی اگر چہ واپسی کے لئے تم کتنے ہی بلا وسے بھیجو افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ گولی چل گئی اور آزمائش کے نتیجہ پر ہمارے لئے کوئی مبارک باد اه نہیں ہے کتاب مسلمانان ہند کی حیات سیاسی ہے میاں محمد مرزا دہلوی کا ایک اقتباس درج ہے جن پر یہ طوفان گزر جانے کے بعد یہ حقیقت کھلی کہ یہ ایک سیاسی بحران تھا۔میں نے سلمانوں کی قومی خود داری کا خاتمہ کر کے رکھ دیا۔لیکن ستم بالائے ستم یہ کہ یہ ہندوؤں کا پروگرام تھا۔ہندو ہی اس کے رہنما تھے مسلمانوں کی حیثیت اس ایجی ٹیشن میں ان کے آلہ کار سے زیادہ نہیں تھی۔اس وقت تک ان سے کام لیا جب تک انہیں ضرورت رہی اور اس وقت ایجی ٹیشن بند کر دیا جب ان کی ضرورت ختم ہو گئی ؟" حقیقت حال خواہ کچھ بھی ہو مسلمانان ہند کی سیاست کا یہ دو ر مستقبل کے مورخ کی نگاہ میں ہمیشہ ناقابل فہم اور قابل شرم قرار پائے گا۔لیکن وہ بڑے تعجب کے ساتھ اس حقیقت کا اقرارہ کرنے پر بھی مجبور ہو گا کہ جہاں بر صغیر کے بڑے بڑے مسلمان رہنما ٹھوکر کھا گئے اور جہالت کے اندھیروں میں بھٹکنے لگے وہاں اسلام کا ایک مایہ نازہ اور صاحب بصیرت فرزند ایسا بھی تھا جس نے ان گھٹا ٹوپ اندھیروں میں اُجالے کی ایک شمع روشن کئے رکھی۔تحریک خلافت کے اس ہنگامہ خیز دور میں آپ کا کردار بہت حد تک محض ایک مشیر کا رہا یعنی ایک ایسے مشیر کا جس کی تنبیہات اور نصائح پر ہر وقت عمل نہ کرنے کے نتیجہ میں ملت اسلامیہ نے بہت کچھ نقصان اُٹھایا۔یہ کہا جا سکتا ہے کہ عملی جدوجہد سے ہٹ کر اور سیاست ے ه تبر كانت آزاد مرتبہ مولانا غلام رسول قہر - - سے مسلمانان ہند کی حیات سیاسی منا