سوانح فضل عمر (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 307 of 389

سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 307

ان کو سر چھپانے کے لئے کوئی جگہ نہ ملی۔خلوص اور محبت اور دین کے لئے قربانی کا وہ جوش و خروش جو خلافت موومنٹ کے دوران ہندو مسلم را ہنماؤں کی چرب زبانیوں نے پیدا کیا تھا اب ٹھنڈا پڑ چکا تھا۔کون تھا جو اُن اُجڑے ہوئے لیٹے لیٹے مہاجرین کو گھر لا کر دو وقت کی روٹی میں اپنا شریک کرتا۔فرانسیسی مصنف وکٹر ہیوگو کا یہ قول یقیناً اس موقع پر پوری صداقت کے ساتھ چسپاں ہو رہا تھا کہ یہ مخلوق آگ کی طرح بھڑکتی ہے راکھ کی طرح ڈھیر ہو جاتی ہے۔وہی مسلمان جو مرزا بشیر الدین محمود احمد کی آواز پر کان دھرنا بھی اپنی بہتک سمجھتے تھے اور اس جرم کی پاداش میں کہ کیوں ترکی خلیفہ کو خلیفہ اسلمین تسلیم نہیں کیا گیا اور کیوں مسلمانوں کو قرآن و حدیث کی صحیح تعلیم بنا کر ترک موالات سے اجتناب کا مشورہ دیا گیا۔آپ کی جماعت کو ناحق طرح طرح سے دُکھ دینے ہی کو کارِ ثواب سمجھتے تھے۔ان کے غیظ و غضب کا رخ سحریک خلافت کے راہنماؤں نے پہلے تو کمال اتا ترک اور ان کے ساتھیوں کی طرف موڑ دیا اور سب الزام ترکی کی بے دین قیادت پر دھرا جانے لگا۔لیکن جب واقعات مزید نتھر کر سامنے آئے تو عوامی غیظ و غضب نے ایک بار پھر رخ پلٹا اور بالآخر تحریک خلافت کی کہانی ان گالیوں پر جا کر ختم ہوئی جو بعد ازاں مدت تک سابق خلیفہ اسلمین سلطان عبدالحمید کو دی جاتی رہیں افسوس ہوش آیا بھی تو اس وقت جب گھر جل چکا تھا اور وہ گولی چل چکی تھی جو آدھے راستے سے واپس نہیں آیا کرتی۔مسلمان قیادت کی اس پشیمانی کی کیفیت کا کچھ اندازہ مولانا ابوالکلام آنہ آد کی حسب ذیل تحریر سے لگایا جا سکتا ہے :- کار فرما دیا نوں کے لئے نازک گھڑیاں روز نہیں آئیں لیکن حبیب آتی ہیں تو انہی میں اصلی آزمائش ہوتی ہے۔ایسی ہی ایک گھڑی تھی۔پہلے پہل انقلاب خلافت کی خبریں ہمارے دماغوں سے ٹکرائیں۔یہی اس بات کی آزمائش کا وقت تھا کہ کہاں تک ہم میں وماعنی قوتِ فعال پیدا ہوئی ہے ؟ کہاں تک ہم نے ایسے معاملات کو سونچنا سمجھنا اور ان کی نزاکتوں سے عہدہ برآ ہونا سیکھا ہے؟ کہاں تک ہم میں یہ طاقت پیدا ہوئی ہے۔کہ دوستوں کی غلطی اور دشمنوں کی شماست میں پھنس کر را و عمل گم نہ کریں ؟ ضرورت تھی کہ ہم میں جو لوگ صاحب فکر و عمل تھے۔کامل حزم و احتیاط سے کام