سوانح فضل عمر (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 256 of 389

سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 256

Fay جاؤ تو وہ تمہارا رعب ہر ایک کے دل میں ڈالنا شروع کر دیں۔چنانچہ آگے فرماتا ہے :- سَنُلْقِي فِي قُلُوبِ الَّذِينَ كَفَرُوا الرُّعْبَ - (۳-۱۵۲) کافروں کے دلوں میں رعب ڈال دیا گیا۔پس ہر انسان کے ساتھ جو ملک ہوتا ہے وہ نبی اور اس کی جماعت کا رعب ڈالتا رہتا ہے۔رجب کی مثال اس زمانہ میں بھی ملتی ہے۔حضرت مسیح موعود نے اپنے مخالفین کو بلایا کہ مباہلہ کر لو مگر کوئی سامنے کھڑا نہ ہو سکا۔وجہ یہ کہ جب وہ سامنے کھڑے ہونے کا خیال کرتے تو فرشتہ ان کے دل میں رعب ڈال دیتا کہ مارے جاؤ گے۔اس لئے وہ ہٹ جاتے۔جن دنوں میں شملہ گیا وہاں مجھے ایک آریہ ملنے کے لئے آیا۔ویدوں کے متعلق گفتگو ہوئی۔میں نے کہا کہ اگر تمھیں ویدوں کے سچے ہونے کا یقین ہے تو قسم کھاؤ۔کہنے لگا ہاں قسم کھانے کو تیار ہوں۔میں نے کہا اس طرح قسم کھاؤ۔اگر یہ سچے نہ ہوں تو میری بیوی بچوں پر عذاب آجائے۔کہنے لگا یہ تو نہیں ہو سکتا۔یہ کہتے ہوئے دل ڈرتا ہے۔میں نے کہا ئیں قرآن کے متعلق اسی طرح قسم کھانے کو تیار ہوں۔کہنے لگا یہ تو بڑی جرات ہے میں نے کہا کہ جب مجھے یقین ہے کہ قرآن سچا ہے اور خدا کا کلام ہے تو جرات کیوں نہ ہوا اسی طرح فرشتوں کا ایک کام ترویج و اشاعت علوم بیان کرتے ہوئے آپ نے فرمایا :- سولہواں کام ملائکہ کا یہ ہوتا ہے کہ وہ لوگوں کو علم سکھاتے اور تعلیم دیتے ہیں یعنی ان کو مقرر کیا جاتا ہے کہ وہ لوگ جو علم کی طرف توجہ کرنے والے ہوں ان کے قلوب پر علم کی روشنی ڈالتے رہو۔چنانچہ حدیثوں میں آتا ہے کہ جبرائیل رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس متمثل ہو کر آئے اور سوال کیا کہ یا رسول اللہ ! ایمان کیا ہے ؟ دین کیا ہے ؟ اور رسول کریم جواب دیتے رہے۔جب چلے گئے تو رسول کریم نے صحابہ کو فرمایا۔جانتے ہو یہ کون تھا ؟ انہوں نے کہا یا رسول اللہ ہم تو نہیں جانتے۔آپ ہی له ملائكة الله ۳۲۵-۳۳