سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 255
۲۵۵ پاس بھیجا جاتا رہا جن میں ان لوگوں کے مطابق استعداد ہوتی تھی۔اور جب دنیا پورے درجہ تک پہنچ گئی تو اس وقت خدا تعالے نے جبرائیل کو اپنی کامل صورت میں بھیجا۔جس کے متعلق رسول کریم فرماتے ہیں کہ اس کے چھ سو پر ہیں۔جو کامل کتاب لے کر آیا۔اس سے معلوم ہوا کہ جبرائیل خدا کی چھ سو صفات کے مظہر ہیں۔یہ کہنا غلطی ہے کہ خدا کی صفات تو تھوڑی ہیں پھر یہ چھ سو صفات کے کیونکہ مظہر ہوئے ؟ خدا تعالے کی بے شمار صفات ہیں اور چھ سو تو صرف وہ ہیں جو انسان کے ساتھ تعلق رکھنے والی ہیں۔حضرت مسیح موعود نے ایک نہایت لطیف بات لکھی ہے جو یہ ہے۔کہ قرآن کریم کا علم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جبرائیل سے زیادہ تھا اور یہ بالکل درست بات ہے۔وجہ یہ کہ اور ملائکہ بھی آپ کی تائید میں تھے۔اور وہ خدا تعالیٰ کی دوسری صفات کے فرشتے تھے۔تو معلوم ہوا کہ ملائکہ مختلف صفات کے مظہر ہوتے ہیں اور اجنحة کے معنے پر نہیں بلکہ صفات کے ہیں جو ان میں پائی جاتی ہیں کہ لئے حقیقت ملائکہ بیان کرنے کے بعد آپ نے ان کے سترہ ایسے کام بیان فرمائے جو قرآن و حدیث سے ثابت ہیں۔چنانچہ ان میں سے ایک کام کا ذکر کرتے ہوئے آپ نے فرمایا۔ایک کام ان کا یہ بھی ہوتا ہے کہ ہر ملک جو انسان کے ساتھ ہوتا ہے وہ نبی اور اس کی جماعت کا رعب انسان کے دل پر ڈالتا رہتا ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:۔إذْ تَقُولُ لِلْمُؤْمِنِينَ النْ يَكْفِيكُمْ أَن تُمدَّكُمْ رَبُّكُمْ بِثَلَثَةِ البِ مِنَ الْمَلَئِكَةِ مُنْزَلِينَ (٣ - ١٢٥) کیا تمہارے لئے یہ کافی نہیں کہ تین ہزارہ ملائکہ تمہاری مدد کو آجائیں۔تین ہزار ملائکہ کیوں فرمایا ؟ اس لئے کہ اس موقع پر دشمن کی فوج اتنی ہی تھی ، اس سے معلوم ہوا کہ یہ اعلیٰ درجے کے فرشتے نہیں تھے بلکہ وہ تھے جو ہر انسان کے ساتھ لگا ہوا ہے۔کیونکہ فرمایا کیا یہ کافی نہیں ہے؟ کہ ہم تین ہزارہ ملائکہ سے تمہاری مدد کریں۔یعنی جب تم دشمن کے مقابلہ پر نے ملائکہ اللہ ۳۹۵-۳۰