سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 257
بتائیے۔آپ نے فرمایا یہ جبرائیل تھا جو تمھیں دین سکھانے کے لئے آیا تھا۔تو ملانکہ کا یہ بھی کام ہوتا ہے کہ علوم سکھاتے ہیں مگر دینی علوم ہی نہیں دنیا کے معاملات کے متعلق علوم بھی سکھاتے ہیں۔حتی کہ کافروں کو بھی سکھاتے ہیں۔میں نے ایڈیسن کی ایک کتاب پڑھی ہے وہ لکھتا ہے کوئی ایک بات بھی ایسی نہیں جو میں نے ایجاد کر کے نکالی ہو۔ایک دم میرے دل میں آکر ایک بات پڑتی اور میں اس کو عمل میں لے آتا۔اس کو چونکہ ایسے علوم کا شوق تھا اس لئے اسے اسی قسم کی باتیں سکھائی گئیں نبیوں اور ولیوں میں چونکہ دینی علوم کا شوق ہوتا ہے اس لئے انہیں دینی علوم سکھاتے ہیں۔فرشتوں کے علوم سکھانے کا بھی عجیب طریق ہے۔وہ جو بات سکھاتے ہیں اسے 08JECTIVE MIND (قلب عامل میں نہیں رکھتے بلکہ 508 قلب غیر عامل ، میں رکھتے ہیں۔یعنی دماغ CONSCIOUS MIND کے پچھلے حصہ میں رکھتے ہیں تاکہ سوچ کہ انسان اسے نکال سکے۔اس میں ظاہری دماغ سے حفاظت کی زیادہ طاقت ہوتی ہے اور یہ ذخیرہ کے طور پر ہوتا ہے۔ملائکہ جو کچھ سکھاتے ہیں اسی حصہ دماغ میں ڈالتے ہیں۔الا ماشاء اللہ۔دماغ کے تین حصے ہوتے۔ایک وہ حصہ جس کے ذریعہ ہم چیزوں کو دیکھتے اور سمجھتے ہیں۔دوسرا وہ حصہ جو ذخیرہ کے طور پر ہوتا ہے اور تیسرا وہ حصہ جس میں ذخیرہ تو ہوتا ہے مگر یاد کرنے سے بھی اس میں جو کچھ ہو یا د نہیں آتا بلکہ بہت کریدنے سے وہ بات سامنے آتی ہے۔ملائکہ کبھی اس تیسرے حصے میں بھی علوم داخل کر جاتے ہیں۔جب ان کی ضرورت ہو اس وقت ایسے واقعات پیش آجاتے ہیں کہ وہ علوم سامنے آجاتے ہیں۔یوں یاد کرنے سے نہیں آتے۔یہ میرا تجربہ ہے میری کوئی ۱۷ - ۱۸ سال کی عمر ہو گی حضرت مسیح موعود کا زمانہ تھا اس وقت ہیں نے رسالہ تشخیز نکالا تھا۔خواب میں میں نے دیکھا کہ ایک فرشتہ آیا ہے جو مجھے کہتا ہے کیا تمھیں کچھ سکھائیں ؟ میں نے کہا سکھاؤ۔اُس نے کہا۔