سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 233
(۳) روزنامہ ہمدم" لکھنو (۴ وکیل امرت سر اس تقریر کا جو فوری اثر حاضرین نے محسوس کیا۔اس کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے که سید عبد القادر صاحب پروفیمر شعیہ تاریخ اسلامیہ کالج لاہور جو پہلے بھی کئی مرتبہ حضور سے علمی مضامین پر گفت گو فرما چکے تھے اس تقریر کے معا بعد حضور سے ملے اور سخت اصرار فرمانے لگے کہ حضور اپنا واپسی کا پروگرام ملتوی فرماویں اور ۲۶ فروری کو اسلامی خلافت میں پیدا ہونے والے فتنوں کے بارہ میں اسلامیہ کالج کی مارٹن ہسٹارٹیکل سوسائٹی کے زیر اہتمام ایک جلسہ سے خطاب فرما دیں۔اس مضمون کی اہمیت کے پیش نظر با وجود وقت کی قلت کے حضور نے اس درخواست کو منظور فرمالیا اور ۲۶ تاریخ کو اسلامیہ کالج ہال میں وہ شہرہ آفاق لیکچر دیا۔جوبعد میں اسلام میں اختلافات کا آغاز " کے نام سے شائع ہوا۔سید صاحب موصوف آپ کی شخصیت سے جس درجہ متاثر ہوئے اس کا کچھ اندازہ ان کے اس تعارفی خطاب سے لگایا جاسکتا ہے جو تقریر سے پہلے بحیثیت صدر انہوں نے حاضرین سے فرمایا۔آج کے لیکچر نہ اس عورت ، اس شہرت اور اس پائے کے انسان ہیں کہ شاید ہی کوئی صاحب نا واقف ہوں۔آپ اس عظیم الشان اور برگزیدہ انسان کے خلف ہیں جہنوں نے تمام مذہبی دنیا اور بالخصوص عیسائی عالم میں تہلکہ مچا دیا تھا۔گذشتہ صدی کی تاریخ کی جہاں تک مجھے ورق گردانی کرنی پڑی ہے اس کی بناء پر میں کہہ سکتا ہوں کہ اس عرصہ میں تین نامور انسان پیدا ہوئے ہیں۔اس میں شک نہیں کہ انیسویں صدی مسلمانوں کے لئے نہایت گئی گذری تھی تاہم اس نے مختلف رنگوں کے تین انسان پیدا کئے ہیں۔ان میں سے ایک بڑا شخص تو وہ تھا جس نے ک کے غدر کے نہایت نازک زمانہ میں مسلمانوں کی راہ نمائی کی اور مسلمانوں کو بہت حد تک تباہی سے بچا لیا۔اس وقت اگر وہ نہ ہوتا ، تو آج حیدر آباد ایسی قابل ذکر ریاست کا نام و نشان نظر نہ آنا، دوسرا شخص سرسید تھا۔جس نے تعلیمی دنیا میں انقلاب پیدا کر دیا تھا اور تیسرا انسان حضرت مرزا غلام احمد تھا جس نے مذہبی دنیا میں نہایت عظیم الشان انقلاب پیدا کر دیا۔آپ لوگوں کو معلوم ہے کہ ایسے وقت