سوانح فضل عمر (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 234 of 389

سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 234

میں حضرت مرزا صاحب آئے جبکہ مسلمانوں کی مذہبی حالت نہایت بری ہو چکی تھی۔ایسی حالت سے حضرت مرزا صاحب نے مسلمانوں کو اُبھارا اور مذہب کی طرف کوٹنے کی ترغیب دی۔اس مقصد میں انہیں کس قدر کامیابی ہوئی۔اس کے متعلق میرے کچھ کہنے کی ضرورت نہیں اس کا ثبوت آپ لوگوں کے سامنے موجود ہے۔میں کسی نہیں تقریر کے لئے کھڑا نہیں ہوا بلکہ صرف یہ بتانے کے لئے کھڑا ہوا ہوں کہ آج کے لیکچرار اس برگزیدہ انسان کے خلف ہیں جس نے اس زمانہ میں مذہبی دنیا میں زمانہ تہلکہ ڈال دیا تھا یات اسلام میں اختلاف کا آغاز اسلام میں اختلاف کا آغاز" کے موضوع پر آپ نے جو شہرہ آفاق تقریر فرمائی اس میں آپ کے مخاطب صرف عامتہ الناس نہیں تھے بلکہ فن تاریخ سے خوب واقت اس مضمون کے قابل اساتذہ اور طلباء کے علاوہ لاہور کے دیگر اعلیٰ تعلیم یافتہ احباب بھی بکثرت حلقہ سامعین میں موجود تھے۔ایسے ہزاروں روشن خیال اور تعلیم یافتہ سامعین کے سامنے آپ نے جس عمدگی سے اس مضمون کو بیان کیا وہ آپ ہی کا حصہ تھا۔سینکڑوں سال کی الجھی ہوئی گتھیاں چند منٹوں میں سلجھا دیں۔اور اس دور کے ایسے واقعات جن پر پہلے ایہام اور شکوک کے پردے پڑے ہوئے تھے ایسے واضح اور مدلل انداز میں پیش فرمائے کہ دل و دماغ کی ساری تشنگیاں دُور ہو گئیں۔چنانچہ اس تقریبہ کے متعلق صدر صاحب جلسه مکرم پروفیسر سید عبد القادر صاحب فاضل مورخ کے تاثرات بار ہا حجات کے رسائل و جرائد میں شائع ہوچکے ہیں یہاں صرف اس تبصرہ میں سے چند فقرے ہدیہ ناظرین کئے جاتے ہیں۔آپ نے فرمایا : مجھے بھی اسلامی تاریخ سے کچھ شدید ہے اور میں دعوے سے کہہ سکتا ہوں کہ کیا مسلمان اور کیا غیر مسلمان۔بہت تھوڑے مورخ ہیں جو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے عہد کے اختلافات کی تہہ تک پہنچ سکے ہیں اور اس مہلک ختنہ کی اصلی وجوہات کو سمجھنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔۔۔۔۔۔میرا خیال ہے کہ ایسا مدتی مضمون اسلامی تاریخ سے دیسپی رکھنے والے احباب کی له الفضل در مارچ ۱۹۱۹ء ص۳