سوانح فضل عمر (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 232 of 389

سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 232

۲۳۲ نوازتے لہذا اس جلسہ کو مارچ 1919ء پر ملتوی کرنا پڑا۔اس بیماری کے اثرات کئی ماہ تک جاری رہے یہاں تک کہ بعض ماہر اطباء سے مشورہ کے لئے حضرت صاحب نے ماہ فروری میں لاہور کا سفر اختیار فرمایا۔اور ۱۲؍ فروری اشارہ کو حضور رضی اللہ عنہ لاہور پہنچے جہاں ۲۲ فروری تک قیام کا ارادہ تھا۔لیکن کچھ تو جماعت لاہور کو حضور سے لمبی جدائی کے بعد ملنے کا اشتیاق کچھ غیر از جماعت دوستوں کا ملاقات کے لئے ذوق وشوق۔نتیجہ یہ نکلا کہ کہاں کا علاج اور کیسے مشورے صبح سے لے کر رات گئے تک متفرق جماعتی ذمہ داریوں میں تیزی سے وقت گزرنے لگا یہاں تک کہ جماعت احمدیہ لاہور کی درخواست پر آپ نے ۱۲۳ فروری کو بریڈ لا ہال میں اسلام اور تعلیقات بین الاقوام" کے اہم موضوع پر ایک نہایت عالمانہ اور پر حکمت خطاب فرمایا۔جو مسلسل تین گھنٹے تک جاری رہا۔ہال شائقین سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا اور لوگوں کا کہنا تھا کہ اس ہال میں پہلے کبھی اس کثرت سے کسی دوسرے موقع پر اتنے سامعین اکٹھے نہیں ہوئے۔اس تقریر میں آپ نے غیر مذاہب سے تعلقات کے موضوع پر اسلامی نظریات کو ایسے رنگ میں پیش فرمایا کہ غیر مذاہب سے تعلق رکھنے والے سامعین پر اسلام کا غیر معمولی حسن و کمال بخوبی ظاہر ہو گیا۔یہ وہ دن تھے کہ جہاں ایک طرف پنجاب کا تعلیم یافتہ طبقہ حضرت صاحب کے غیر معمولی ظاہری اور باطنی علوم سے متاثر ہو کہ روز بروز پہلے سے بڑھ کہ آپ کی رہنمائی کی حاجت محسوس کر رہا تھا اور دقیق علمی مضامین کے بارہ میں روشنی حاصل کرنے کے لئے نظریں قادیان کے اس خلیفہ کی طرف اُٹھ رہی تھیں وہاں دوسری طرف مذہبی تعصبات بھی زوروں پر تھے اور عامتہ الناس میں علماء، پنڈتوں اور پادریوں کی پھیلائی ہوئی غلط فہمیوں کے نتیجہ میں اخبارات اس بات سے ڈرتے تھے کہ حضور کے علم وفضل کا اعتراف جرات کے ساتھ کر سکیں۔یہی وجہ ہے کہ گوپنجاب سے باہر کے بعض دور دور از اخبارات نے اس تقریر کو غیر معمولی وقعت کی نظر سے دیکھا، اور اپنے اخبارات میں اسے شاندار خراج تحسین پیش کیا۔لیکن لاہور کے اخبارات میں سے سوائے سول اینڈ ملٹری گزٹ کے جو ایک آزاد خیال انگریزی اخبار تھا کسی ہندو یا مسلم اخبار کو یہ جرات نہ ہوئی کہ حضور کی تقریر کا ذکر کرتا۔بعض دوسرے شہروں کے اخبارات جنہوں نے اس تقریر کو شاندا الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا۔حسب ذیل تھے :- (1) روزانہ قومی رپورٹ کے مدراس (۲) روزنامہ اخوت " لکھنؤ