سوانح فضل عمر (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 123 of 389

سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 123

عرصہ یعنی دو سال کے اندر جماعت کے اس زخم پر سکینت بخش هرم رکھا اور یہ اعلان کرتے ہوئے کہ اس وقت قرآن کریم کے پہلے پارے کے انگریزی ترجمے کی جلد میرے ہاتھ میں ہے نہایت ہی دل نشین انداز میں جماعت کو تسلی دی کہ جسے تم نقصان سمجھتے ہو اُسی میں اللہ تعالے کی طرف سے بھلائی مضمر ہو سکتی ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس ترجمہ کی نسبت ایک بہتر ترجمہ کرنے کی توفیق عطا فرمائی اور آئندہ بھی توفیق عطا فرماتا رہے گا۔اس ترجمہ کی خصوصیات یہ تھیں کہ اس سے پہلے کبھی کوئی انگریزی ترجمہ عربی متن کے ساتھ نہیں چھپا تھا۔مزید خوبی اس میں یہ پیدا کر دی گئی کہ عربی متن کے تلفظ او لہجہ کو رومن الفاظ میں بھی ظاہر کیا گیا۔تاکہ یورپین قومیں جو عربی رسم الخط سے نا واقف ہیں قرآن کریم کا اصل متن بھی پڑھ سکیں۔ترجمہ بہترین با محاورہ زبان میں ہونے کے باوجود کہیں بھی متن کے اصل منشاء سے ہٹنے نہیں پایا اور جہاں ضرورت پیش آئی تفسیری نوٹ بھی دے دیئے گئے۔حضرت خلیفة المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جب محبت کرنے والے اور محبوب لوگ دیر کے بعد ملتے ہیں تو ان کو تحفہ دیا جاتا ہے۔میں جماعت کو اس جلسہ پر یہ تحفہ پیش کرتا ہوں جس سے زیادہ بیش قیمت اور کوئی تحفہ نہیں ہو سکتا۔یہ ترجمہ حضور کی مسلسل نگرانی اور ہر قدم پر آپ کی رہنمائی کا مرہونِ منت ہے بلکہ یہ کہنا بے جانہ ہوگا کہ تمام تر حضور ہی کے تفسیری نوٹوں سے تیار کیا گیا۔لیکن اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ فاضل مترجمین نے آپ کے منشاء اور ہدایت کے مطابق بڑی خوبی سے اس کام کو پایہ تکمیل تک پہنچایا اور بہت ہی توجیہ اور دن رات کی محنت اور لگن اور خلوص کے ساتھ اس فریضہ کو سر انجام دیا۔فَجَزَاهُمُ اللَّهُ أَحْسَنِ الجزاء دنیا کے مختلف علمی حلقوں نے اس ترجمہ کو بڑے شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا۔اخبار ایمپائر کلکتہ۔سول اینڈ ملٹری گزٹ لاہور کے علاوہ لنڈن کے ایک جریدہ ایسٹ اینڈوکیٹ نے بھی اس کی بہت تعریف کی ہے لیکن ان سب سے بڑھ کر مسلم ورلڈ کا ریویو قابل ذکر ہے جو قاہرہ سے چھپنے والا ایک مؤقر عیسائی ماہنامہ تھا۔اس کے ذہین اور عالم مدیر نے خاص تنقیدی نظر سے اس ترجمہ کا مطالعہ کر کے ے ریویو آن ریچیز اُردو جنوری ۶۱۹۱۷ ۳۲۰ -