سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 122
۱۲۲ میں دھونی رمائے بیٹے ہیں۔دُنیا میں کم ہی کسی آنکھ نے فتح و ظفر کا جشن منانے والی کوئی ایسی تقریب دیکھی ہوگی۔کچھ ابتدائے اسلام کے دردناک حالات کا اللہ کچھ بیان کرنے والے کے دل کا سوز اور نمن کا گداز ہزار ہا کے مجمع پر ایک ایسا وجد اور رقت کا عالم طاری تھا کہ ہمارے قلم میں اس کے بیان کی طاقت نہیں۔موقع کے شاہد بیان کرتے ہیں، اور الفضل کا رپورٹر رقمطراز ہے کہ ہزاروں کا مجمع بلک بلک کر رو رہا تھا اور فرش زمین کی یہ گریہ و زاری عرش بریں کے کینگرے ہلا رہی تھی۔یہ تقریر جو بعد میں انوار حالات کے نام سے چھپ چکی ہے اس لائق ہے کہ نسلاً بعد نسل اس کی اشاعت ہوتی رہے اور ہر آنے والی نوجوان نسل اس کے مضمون سے باخبر ہو کہ آنے والے فتنوں سے متنبہ رہے اور اُن سے مقابلہ کرنے کی اہل ثابت ہو۔آپ کی جلسہ کی دوسری تقاریر میں سے پہلی ایک طویل گہری علمی تقریبہ تھی ، جیس میں جماعت احمدیہ کے امتیازی نظریات اور ان پر وارد ہونے والے اعتراضات کے بارہ میں سیر حاصل بحث کی گئی ہے۔خاص طور پر اسمہ احمد کی پیشگوئی کے تمام پہلو بڑی عمدگی کے ساتھ زیر بحث لائے گئے ہیں۔۲۷ دسمبر کی درمیانی تقریر کا ایک حصہ پہلے مضمون کا نتمہ تھا۔اور دوسرے حصے میں متفرق امور مثلاً تحصیل علم اور عورتوں کو علم دین سکھانا وغیرہ پر گفتگو فرمائی گئی تھی۔اس جلسہ پر خلافت کے دوسرے سال کا افتتاح ہوا۔اور احباب جماعت نئے ولولے اور نئی امنگوں، نئے ارادوں اور دین محمد کو پہلے سے بڑھ کر سیکھنے کا عزم لے کر گھروں کو کوئے۔اس جلسہ کی ایک امتیازی شان یہ بھی تھی کہ حضرت خلیفہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے پہلی مرتبہ جماعت احمدیہ کو یہ عظیم خوشخبری سنائی کہ اللہ تعالیٰ کے فضل اور توفیق سے جماعت احمدیہ کو قرآن کریم کے پہلے پارہ کا انگریزی زبان میں ترجمہ شائع کرنے کا موقع ملا ہے۔احباب جماعت کو اس بات کا بہت رنج تھا کہ مولوی محمد علی صاحب ایم اے سلسلہ کے خرچ پر تفسیر قرآن انگریزی کا جو کام کر رہے تھے اُسے وہ اپنی ذاتی ملکیت سمجھ کر لاہور نے گئے اور جماعت احمدیہ اپنے ایک جائز حق سے محروم ہو گئی۔حضرت خلیفة المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کا یہ کارنامہ قابل تحسین ہے کہ آپ نے ایک قلیل