سوانح فضل عمر (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 121 of 389

سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 121

۱۲۱ اس کے بعد آپ نے سورہ نصر کی نہایت لطیف تفسیر فرمائی اور تاریخ اسلام کا حوالہ دیتے ہوئے ان خطرات کی نشاندہی فرمائی جن کا سورۂ نصر میں ذکر ہے۔آپ نے ان مشکلات کا نہایت دردناک پیرایہ میں ذکر فرمایا جو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کو درپیش تھیں اور اُن فتنوں کا تفصیلی ذکر کیا جو ہر طرف سے اسلام کے خلاف سر اُٹھا رہے تھے۔اور بڑے گہرے عالمانہ تشخص کے ساتھ ان موجبا اور محرکات کا تجزیہ فرمایا جو ان فتنوں کے پس پردہ کار فرما تھے۔پھر جماعت کو نہایت ورد انگیز طریق پر بار بار توجہ دلائی کہ اپنی فتح کے گھمنڈ میں مستقبل کے خطرات سے غافل نہ ہو جاتا۔کل اس سے بڑی فتوحات تمھارے لئے مقرر ہیں بلکہ ہر آنیوالا دن پہلے سے بڑھ کر فتح و ظفر کی خوشخبریاں لے کر آئے گا۔یہ خدا کے وعدے ہیں جو ضرور پورے ہو کر رہیں گے اس میں ذرہ برابر بھی شک نہیں۔ہاں مجھے فکر ہے تو اس بات کی کہ ان فتوحات کے بعد بڑے بڑے حبیب فتنے بھی سر اُٹھائیں گے۔ایسے ہولناک فتنے بھی رونما ہو سکتے ہیں۔جو اس فتنے سے بہت زیادہ پُر خطر اور نیب ہوں گے۔جس میں سے تم ابھی فتح مند اور کامران ہو کر سکتے ہو۔آج اس وقت کی فکر کرو اور کل پیش آنے والے خطرات کے دفاع کا انتظام کرو۔ورنہ وہ فتنے تھیں غفلت کی حالت میں آپکڑیں گے۔آپ نے خلافت ثالثہ راشدہ کی مثالیں دے کر بڑی تفصیل سے ان چور دروازوں کی نشاندہی فرمائی جن سے فتنے رفتہ رفتہ مؤمنین کی جماعت میں در آتے ہیں۔اُن بظاہر دلکش نعروں کا ذکر کیا جنہیں بلند کر کے خدا کا نام نہیں بلکہ شیطان کا نام بلند کرنا مقصود ہوتا ہے۔ان اعتراضات کا ذکر کیا جو عموما خلفائے وقت کے خلاف اُٹھائے جاتے ہیں۔غرضیکہ ایک ایک سنگِ راہ - ایک ایک کھائی ایک ایک گڑھے اور ایک ایک پر خطر گھائی کا نقشہ اس طرح کھینچا کہ تمام مناظر سننے والوں کی آنکھوں کے سامنے رُونما ہو گئے۔ان فتنوں سے بچنے کے طریق بھی بیان کئے اور سب سے زیادہ زور اس بات پر دیا کہ کثرت کے ساتھ مرکز سلسلہ میں آتے رہو تا کہ جس طرح ایک قصاب ایک چھری کو دوسری کند چھری کے ساتھ رگڑ کو تیز کرتا رہتا ہے تمہارے دلوں کے زنگ بھی ایک دوسرے سے مل کر اور تبادلہ خیالات کر کے چھٹتے رہیں اور تم ان صالحین کی صحبت سے فائدہ اُٹھا سکو جو محض اللہ مرکز احمدیت