سوانح فضل عمر (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 46 of 367

سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 46

تھے۔چونکہ آپ نے زیادہ تر ہندوؤں میں توحید کے قیام کے لئے جہاد کیا اور ہندو نو مسلم ہی زیادہ تر آپ کے مسلک کے مرید ہوئے لہذا مرور زمانہ سے آہستہ آہستہ اسلام کے اس صوفی فرقہ کو ایک الگ مذہب تصور کر لیا گیا۔اپنے اس دعوی کے ثبوت کے طور پر خدا تعالٰی سے خبر پاکر آپ نے یہ حیرت انگیز انکشاف بھی فرمایا که حضرت با دا گورو نانک صاحب کے مقدس چوے پر مبینہ طور پر جو نا معلوم الهامی زبان درج ہے وہ سورہ فاتحہ اور بعض دیگر قرآنی آیات ک سوا اور کچھ نہیں۔نہ صرف آپ نے یہ اعلان فرمایا بلکہ اپنے بعض رفقا کے ساتھ خود بنفس نفیس یہ چولہ ملاحظہ فرمانے کے لئے ڈیرہ بابا نانک صاحب تشریف لے گئے اور اس چولے کی تصاویر بھی اتر و ائیں نہیں بعد میں بکثرت شائع کروا کر دنیا پر خوب روشن کر دیا کہ مندرجہ عبارت کوئی نئی الہامی زبان نہیں جیسا کہ سکھوں کا عقیدہ تھا، بلکہ اس پر تو محض سُورۃ فاتحہ کلمہ طیبہ اور قرآن کریم کی بعض دیگر آیات درج ہیں۔ہر ہے کہ یہ دعوی سکھ مت کی علیحدہ مذہبی حیثیت پر ایک کاری ضرب لگاتا ہے اس نے سکھوں کا اس انکشاف پر سخت ناراض اور سیخ پا ہوتا ایک شیعی امر تھا۔چنانچہ پنجاب بھر کی سکھ آبادی بھی آپ کو ناراضگی کی آنکھ سے دیکھنے لگی۔مندرجہ بالا حقائق پر نظر ڈال کر تعجب نہیں رہتا کہ کیوں حضرت مرزا صاحب اپنے زمانہ کے ابنائے آدم کی نظروں میں بلا استثنار سب سے زیادہ مقہور و مغضوب ٹھہرے یہاں تک کہ جو پہلے اپنے تھے وہ بھی ایسے دشمن ہوئے کہ شرافت اور نجابت کے سارے دستور بالائے طاق رکھ کر سخت اوچھے ہتھیاروں پر اتر آئے۔صرف اس زبان ہی کو دیکھ لیجئے جو اس وقت معاند مسلمان علماء نے حضرت مرزا صاحب کے خلاف استعمال کی۔اس قدر غلیظ اور ناپاک گالیاں سُن کر عقل باور نہیں کرتی کہ ایک مسلمان عالم کی لغت گالیوں کے مضمون میں اتنی وسیع ہو سکتی ہے۔فتاوی کفر کی کوئی انتہانہ نہ رہی اور جہنم کی بشارتیں تو روزمرہ کا معمول ہو تیں اور برسرِ عام دی جانے لگیں۔سب سے بڑا ظلم یہ ہوا کہ وہ دعا دی جو آپ نے کئے تھے، اُن کو اشتعال انگیزی کے لئے ناکانی سمجھ کر آئے دن من گھڑت اور خود ایجاد دعاوی آپ کی طرف منسوب کئے جانے لگے۔اور آپ کی پاکیزہ تحریرات کے ظروف میں وہ خیالی گند بھرے جانے تھے جن کا دہم بھی حضرت مرزا صاحب کے نزدیک حرام اور گھر تھا۔مثلاً آپ کے متعلق کیاگیا کہ نعوذ باللہ آپ خدا یا خدا کا بیٹا ہونے کا دعوی کرتے ہیں یا نعوذ باللہ آپ حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے افضل اور بالمقابل نبی ہونے کا دعوی کرتے ہیں یا نعوذ باللہ آپ