سوانح فضل عمر (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 45 of 367

سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 45

۴۵ دیگر مذاہب کی طرف سے مخالفت اور آریہ سماج سے مقابلہ اگر حضرت مرزا صاحب کا دعوی ہیں تک رہتا کہ مسیح ناصری فوت ہو چکے ہیں اور اُن کی بجائے خدا تعالے نے آپ کو اُن کے رنگ میں مبعوث فرمایا ہے تب تو بات مسلمانوں اور عیسائیوں کے غیظ و غضب تک محدود رہتی۔مگر آپ کا یہ دعونی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مشن چونکہ عالمی مشن تھا لہذا آپ کی غلامی میں مبعوث ہونے والے امام زمانہ کا مشن بھی لازماً عالمی ہونا تھا۔اور آپ کا یہ دعوئی کہ آپ صرف عیسائیوں کے مسیح اور مسلمانوں کے مہدی ہی نہیں بلکہ یہودیوں کے لئے داؤد اور ہندووں کے کرشن بھی ہیں، بلا استثناء تمام مذاہب عالم کے پیرو کار ان کو آپ کا دشمن بنا گیا۔مسلمان اور عیسائی تو نالاں تھے ہی ہندو بھی سخت سیخ پا ہوتے کہ ہمارا کرشن اور محمد ( صلے السلام کے غلاموں میں پیدا ہو ؟۔۔۔اس سے زیادہ دُکھ اُن کے لئے ممکن نہ تھا۔ہندوؤں کے نزدیک یہ ہندو مذہب اور کرشن جی مہاراج کی ایسی تذلیل تھی کہ حضرت مرزا صاحب کے خلاف اس دعوی کی بنا پر سند و سوسائٹی کی نس نس میں بغض، تعصب اور نفرت کا زہر سرایت کر گیا۔اس زہر کا جسمانی مظہر لیکھرام کی صورت میں ظاہر ہوا جس کا ذکر آگے چل کر آئے گا) یہ وہ آریہ لیڈر تھا جس کی کھلیاں حضرت بانی اسلام محمد عربی هستی جس ذکر یہ وہ تھاجس اللہ علیہ وسلم کے خلاف زہر سے ایسی بھر پور تھیں کہ ہزار بار ڈسنے کے باوجود وہ کبھی اس زہر سے خالی نہ علیہ ہوسکیں۔ایک قوم سکھ باقی تھی جس کا مسکن زیادہ تر پنجاب ہے اور خصوصاً قادیان کے ارد گرد بھاری تعداد میں آباد ہے، اس قوم کے ہاتھ میں بھی آپ نے دشمنی کا ایک زبر دست بہانہ تھما دیا۔آپ نے دعوئی کیا کہ سکھ مت کے بانی حضرت باراگورو نانک صاحب دراصل کسی نئے مذہب کے بانی نہیں تھے ، بلکہ نو عمری میں ہی آپ نے بت پرستی سے متنفر ہو کر دین اسلام کو دل سے قبول کر لیا تھا اور آخری سانس تک دین اسلام کے پیرور ہے۔آپ ایک معمولی مسلمان نہ تھے بلکہ نہایت اعلنے پایہ کے بزرگ مسلمان اور آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے عاشق صادق تھے اور قرآن و سنت کے دل و جان سے پابند