سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 47
آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبیین نہیں مانتے اور امہات المومنین کی سخت توہین کرتے ہیں وغیرہ وغیرہ ادھر اپنے لینی مسلمان کہلانے والے آپ سے یہ سلوک کر رہے تھے اُدھر غیر بھی بڑی شدت اور تدی کے ساتھ آپ پر حملہ آور ہورہے تھے۔ظاہر ہے کہ جب مسلمان ایک غیر قوم کے نبی کی موت کا پھوٹی بھی برداشت نہیں کر سکے تو عیسائی خود نچلے کیسے بیٹھ سکتے تھے جب کہ اُن کے اپنے خدا کا اکلوتا بیٹا مارا جار ہا تھا۔چنانچہ بڑے بڑے عیسائی پادری للکارتے ہوئے آپ کے مقابل پر مبارزت کے لئے نکلے جن میں لاہور کے بشپ لیفرائے امرتسر کے عبداللہ آتھم اور امریکہ کے ڈوئی جیسے نامی گرامی پہلوان شامل تھے۔ہندو قوں میں اس وقت آریہ سماج ہندومت کا ایک شدید جارحیت پسند فرقہ تھا۔اس فرقہ نے ہندومت کی نمائندگی میں حضرت مرزا صاحب اور اسلام کو نیچا دکھلانے کے لئے شدید جنگ لڑی۔اگر چہ عیسائی پادری بھی بانی اسلام حضرت اقدس محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی مظہر ازواج اور مقدس اہل بیت پر نہایت کمینے اور رکیک حملے کرنے سے بھی نہیں چوکتے تھے لیکن اس بارہ میں جو تا پاک مظاہرہ کبھی آریہ سماج نے کیا اس کی مثال نظر نہیں آتی۔حضرت مرزا صاحب کے خلاف آریہ مت کے بغض و عناد کا ذکر پہلے گزر چکا ہے۔اس فرقہ کی نمائندگی میں سب سے پیش پیش پنڈت لیکھرام تھے۔حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرنے اور سخت بے باکی سے گند اُچھالنے اور استہزاء کرنے میں یہ سب دوسرے کینه توز اور گندہ دہن مخالفین پر سبقت لے جاچکے تھے۔حضرت مرزا صاحب نے ان پنڈت صاحب کو بھی نہایت پر شوکت الفاظ میں للکارا اور اسلام پر ان کے حملوں کے جواب میں پے در پے نہایت شدید جوابی حملے آریہ مت پر کہئے۔جن ایام کا اہم ذکر کر رہے ہیں یہ مذہبی جنگوں کا وہ دور تھا جب کہ نظریاتی تبخیں اپنے کمال کو پہنچ چکی تھیں اور مخالفت یا موافقت میں کوئی ایسی دلیل باقی نہیں رہی تھی جسے فریقین نے استعمال نہ کیا ہو۔حضرت مرزا صاحب نے اس طویل بحث کو فیصلہ کن صورت دینے کے لئے اپنے مخالفین کو اس طرف توجہ دلائی کہ حق اور باطل کا فیصلہ منقولی دلائل کی بجائے اس طریق سے کیا جائے کہ جس ہذہ سب کے ماننے والوں کا اللہ تعالٰی سے سچا اور زندہ تعلق قائم ہو اور اس کا مشاہدہ کیا جا سکے، اُسے سچا تسلیم کرلیا جائے اور جہاں محض زبانی جمع خرچ ہو اور تعلق باللہ کی عملاً کوئی نشانی نہ ملتی ہو اسے رڈ کر دیا جائے۔آپ نے دعوی کیا کہ اسلام کا خدا ایک زندہ خدا ہے اور اسلام کا رسول ایک زندہ رسول ہے جس کی قوت قدسیہ آج بھی خاک کی ایک ٹکی کو خدا تما انسان بنا سکتی ہے، اسی طرح اسلام کی کتاب بھی ایک زندہ