سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 297
۲۹۷ ہے اور عظیم انسان بننے والا ہے۔یہ عجیب بات ہے کہ آپ کو دیکھ کر آپ کے بوڑھے اور جوان ہونے کا فرق محسوس نہیں ہوتا تھا۔19ء میں حضور ولایت لمہ تشریف لے گئے تو وہاں کے ایک اخبار نے لکھا کہ امام جماعت احمدیہ جوان آدمی ہیں۔وہ پڑھ کر احساس ہوا کہ ہمارے حضرت صاحب جوان ہیں ! قدرت نے جو ان عمر میں ایک رعب عطا کیا ہوا تھا جس میں حضور کی جوانی چھپی رہتی۔آپ کے چہرے پر مسکراہٹ تھی لیکن اس پر سنجیدگی غالب تھی۔سر پر سفید پکا باندھے ہوئے تھے۔پاؤں میں پمپ شو قسم کی کالی چمکدار گر گابی پہنی ہوتی تھی۔آپ کا چہرہ لباس۔غرضیکہ آپ کا مجموعی شخص بہت دلکش تھا۔آپ کو دیکھ کر طبیعت بہت خوش ہوئی اس لئے کہ ہمارے امام یعنی بانی جماعت احمدیہ کے بیٹے ہیں اور اپنے باپ کی طرح خوبصورت اور دلکش شخصیت کے مالک۔یہ احساس آخر وقت تک قائم رہا حضور گاڑی سے اترے۔احباب سے مصافحہ کیا اور بے تکلفی سے احباب سے باتیں کرتے رہے۔" محترم قاضی صاحب نے اپنی فراست اور ذہانت کے نتیجہ میں جو بات اس وقت محسوس کی وہ آپ کی شخصیت کا ایک اہم جز دھی۔آپ کے چہرہ کو دیکھ کہ اور آپ سے ملاقات کے وقت ملنے والوں کا ذہن کبھی آپ کی عمر کی طرف منتقل نہیں ہوتا تھا بلکہ ملاقاتی براہ راست ایک ایسی شخصیت کے بحر بے کراں میں گم ہو جاتا تھا جو وقت کی قید سے آزاد ہو۔یوں محسوس ہوتا تھا جیسے گزرتے ہوتے وقبت کا اس شخصیت سے کوئی تعلق نہیں۔جوانی میں دیکھنے والوں نے آپ کے پختہ ذہن اور عظیم فکر کے نتیجہ میں کبھی آپ کی جوانی کو محسوس نہ کیا اور بڑی عمر میں ملنے والوں کے دل میں آپ کے پیر ولولہ دل اور بے پناہ قوت عمل کے نتیجہ میں کبھی آپ کی بڑی عمر کا خیال پیدا نہ ہوا۔خود میرا ذہن بھی اپنے بچپن سے لے کر تقسیم ہند کے بعد کے چند سالوں تک کی زندگی میں کبھی بھی آپ کی عمر کی طرف منتقل نہیں ہوا۔البتہ آپ کی عمر کے آخری چند سالوں میں کچھ تو ہجرت کے صدمہ کی بنا پر اور کچھ ایک قاتلانہ حملہ کی وجہ سے پیدا ہونے والی بیماری کے باعث پہلی مرتبہ گرد و پیش میں بسنے والے اعزا و اقارب اور احباب جماعت نے بڑے دُکھ بھرے تعجب سے یہ امر محسوس کیا کہ آپ کی زندگی بڑھاپے کے دور میں داخل ہو رہی ہے۔90ء کے بعد کے چند ابتدائی سالوں میں ہمارے چچا حضرت مرزا بشیر احمد رضی الله عنه مرزا احمد 190"