سوانح فضل عمر (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 296 of 367

سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 296

۲۹۶ وہاں میری شہرت بھی ہو گئی تھی۔چنانچہ ایک سڑک پر ہم جا رہے تھے کہ ایک نوجوان شخص نے سنجیدگی سے " یا ابن مرسول اللہ " یا "یا ابن نبی اللہ کہہ کر سلام کیا اور ہٹ گیا۔یہ اس نے تمسخر سے کہا یا حقیقی طور پر یہ معلوم نہیں اگر تمسخر کی کوئی علامت اس سے ظاہر نہیں ہوتی تھی۔ممکن ہے کہ اس کے قلب میں تحریک ہوئی ہو۔اور وہ خوف سے ظاہر نہ کرتا ہو “ لے حضرت صاحبزادہ صاحب کی سفر حج سے واپسی پر بمبئی سے لے کر قادیان تک تمام جماعتوں نے آپ کا شاندار استقبال کیا اور لوگ جوق در جوق مختلف اسٹیشنوں پر آپ سے طاقات اور خوش آمدید کے لئے آئے۔یہ محض ایک دنیوی رسم نہ تھی بلکہ خدمت دین کو اس موقع پر بھی اولیت حاصل رہی۔ہر اسٹیشن پر آپ احباب جماعت کو مخاطب کرتے ہوئے انہیں سفر حج کی روداد سُناتے اور دینی نصائح فرماتے رہے اور با وجود وقت کی تنگی کے مختصر اور پر اثر تقاریر فرمائیں۔امرتسر کے اسٹیشن پر استقبال کرنے والوں میں مکرم و محترم پر وفیسر قاضی محمد اسلم صاحب ایم۔اے (کینٹب) (سابق پرنسپل گورنمنٹ کالج لاہور و پروفیسر شعبہ نفسیات پنجاب یونیورسٹی) بھی شامل تھے۔اُس وقت آپ نے پہلی مرتبہ حضرت صاحبزادہ صاحب کی زیارت کی اور یہ موقع اس لحاظ سے بڑا بیش قیمت تھا کہ محترم قاضی صاحب نے اس وقت آپ کی شخصیت کی ایک ایسی تصویر اپنے ذہن میں محفوظ کرلی جس کا دلکش نقش آج تک محترم قاضی صاحب کی یادوں کا ایک قیمتی سرمایہ ہے اور محترم قاضی صاحب کی بدولت ہمیں بھی آپ کی اس نو عمری کی شخصیت سے شناسائی کا موقع مل گیا۔محترم قاضی صاحب اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں :۔19ء میں جب حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ فریضہ حج ادا کرکے واپس تشریف لائے تو امرتسر کے اسٹیشن پر امرتسر کی جماعت نے آپ کا استقبال کیا۔اس موقعہ پر میں نے پہلی دفعہ آپ کو دیکھا۔غالباً سیکنڈ کلاس کے ڈبہ میں تھے۔یہ میرا پہلا نظارہ ہے جو میں نے آپ کی شخصیت کا کیا۔بس وہ دن اور یہ دن ایک مستقل یاد رکھے ہوئے ہوں اسوقت میری عجیب کیفیت تھی۔کاش میں بیان کر سکتا ! میں نے دیکھا کہ ایک نہایت ہی خوبصورت آدمی ہے جو ہمارا بزرگ ہے، لیڈر ہے، قابل احترام له الفضل ، مارچ ۱۹۲۷ء حدث