سوانح فضل عمر (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 298 of 367

سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 298

٢٩٨ نے جنہیں ہم عمو صاحب کہا کرتے تھے مجھے خاص طور پر اس طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا کہ یہ عجیب بات ہے کہ پہلی مرتبہ حضرت صاحب پر عمر کے آثار ظاہر ہوتے ہیں۔پس محترم قاضی صاحب کی یہ روایت اس لحاظ سے بہت دلچسپ ہے کہ حضور کی شخصیت کا یہ پہلو عنفوان شباب کے وقت بھی ش اسی طرح نمایاں تھا۔جب حضرت صاحبزادہ صاحب بٹالہ پہنچے تو اپنی مقدس والده حضرت اُم المومنین رضی الله عنها کو بٹالہ میں جو قادیان سے بارہ میں مغرب کی طرف واقع ہے جوش محبت میں اپنے استقبال کا منتظر پایا۔حضرت خلیفہ المسیح الاول رضی اللہ عنہ نے قادیان میں خاص طور پر آپ کے استقبال کی ہدایت فرمائی۔دونوں تعلیمی اداروں میں تعطیل کر دی گئی۔طلبا کے علاوہ سینکڑوں احباب جماعت قادیان سے دو میل دور نہر سو پیشوائی کے لئے پہنچے ہوئے تھے۔باوجود ضعف اور ناتوانی کے حضرت خلیفہ المسیح الاول رضی اللہ عنہ بھی بنفس نفیس قادیان سے بہت دور تک پیدل استقبال کے لئے تشریف لے گئے۔آپ کے اعزاز میں طلبا کی طرف سے ایک شاندار چائے کی دعوت کا اہتمام کیا گیا جس میں حضرت خلیفہ مسیح الاول رضی اللہ عنہ نے بھی تقریر فرمائی۔طلبا نے فرط عقیدت میں حضرت خلیفہ المسیح رضی اللہ عنہ سے گزارش کی کہ ہم نہیں جانتے کہ اپنی بے پناہ خوشی کا اظہار کیسے کریں۔اس پر حضور نے اظہار خوشی کا ایک پاکیزہ ذریعہ انہیں یہ سمجھایا : دعا کرو میاں صاحب کی زندگی با برکت، مفید خلائق اور خادم اسلام ہو۔مل کر یہ دعا کرو۔دو رکعت نماز پڑھ کر جناب انہی کی تعریف اور اپنے استغفار کے بعد " پس جو وجود دعاؤں کا زاد راہ لے کر قادیان سے روانہ ہوا تھا اس کی پیشوائی دعاؤں ہی کے رنگا رنگ گلدستوں اور نیک تمناؤں کے پھول نچھاور کر کے کی گئی۔