سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 295
۲۹۵ " میں نے دُعا میں چند جگہوں کا خاص تجربہ کیا ہے۔اول خانہ کعبہ کی رویت کے وقت کی دُعا اس وقت میں نے ایک عجیب نظارہ دیکھا کہ آسمان سے نزولِ انوار ہو رہا ہے۔یہ قلبی کیفیت نہ تھی بلکہ واقعی ایک چیز تھی جو نظر آرہی تھی۔دوسرے عرفات کا مقام یہ تو حج کا مغز ہے اس میں بھی نزول برکات کا ہوتا ہے۔تیسری جگہ غارِ حرا تھی اس میں دُعا کرنے سے بھی قلب میں ایک خاص کیفیت پیدا ہوتی تھی ایک وجہ اس کیفیت کے پیدا ہونے کی یہ ہے کہ ان مقامات کی وہ لوگ واجبی قدر نہیں کرتے۔میں نے عرفات کے میدان میں دیکھا کہ لوگ میلوں کی طرح خرید و فروخت میں مصروف تھے، کھاتے پیتے پھرتے تھے، مجھے کوئی دعا میں مصروف نظر نہ آیا۔البتہ جب خطیب کے خطبہ پڑھنے کے بعد کپڑا بلا تو لوگ کچھ متوجہ ہوئے ورنہ باقی تمام وقت کھانے پینے میں ہی گزار دیا۔- میں نے وہاں خصوصیت سے برکات کو دیکھا۔تین گھنٹہ کا وقت ملا اور میں نے تین گھنٹہ تک دُعا کی 'جب وقت تنگ ہونے لگا تو مجھے کہا گیا کہ اب چلنا چاہیئے۔مگر مجھے ایسا معلوم ہوتا تھا کہ گویا میں نے دس پندرہ منٹ ہی دعا کی ہے۔میں نے وہاں تبلیغ شروع کی اور خدا نے اپنے خاص فضل سے میری حفاظت کی۔اس وقت حکومت ترکی کا وہاں چنداں اثر نہ تھا۔اب تو شاہ حجاز کے گورنمنٹ انگریزی کے زیر اثر ہونے کے باعث ہندوستانیوں سے بدسلوکی نہیں ہو سکتی مگر اس وقت یہ حالت نہ تھی۔اس وقت تو وہاں جس کو چاہتے گرفتار کر سکتے تھے۔مگر میں نے تبلیغ کی اور کھلے طور پر کی۔لیکن جب ہم وہ مکان چھوڑ کر واپس ہوتے تو دوسرے دن اس مکان پر چھاپہ مارا گیا اور مالک مکان کو پکڑا گیا کہ اس قسم کا کوئی شخص یہاں تھا۔وہاں ایک مولوی عبد الستار تاجر کتب تھے جو عالم اور شریف اور سمجھدار انسان تھے اور جمہور سے عقائد میں اختلاف رکھتے تھے مگر ظاہر نہیں ہو سکتے تھے۔میں نے جب ان کو تبلیغ کی تو انہوں نے کہا کہ باتیں معقول ہیں مگر میں آپ کو نصیحت کرتا ہوں کہ فلاں شخص کے پاس اس قسم کی باتیں نہ کریں، وہ آپ کو نقصان پہنچائے گا۔میں نے اُن کو بتایا کہ میں اس کو بھی دو گھنٹہ تک تبلیغ کر آیا ہوں۔اس نے سوائے بد زبانی کے اور تو کچھ نہیں کہا۔ا