سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 278
بیٹھا ہے ورنہ اس قدر جلدی اُس حالت سے اس حالت تک پہنچنے سے کیا مطلب؟ افسوس کہ اب بھی اس موقعہ کو ہاتھ سے دے رہے ہیں اور وقت سے کچھ فائدہ نہیں اٹھاتے قصہ کو تا ہم اس جگہ سے چل کر آگے پہلے۔اب جو جگہ دیکھنے کے قابل آئی تھی وہ قطب مینار ہے جس کے راستہ میں حضرت صاحب کو پچھلی دفعہ نہایت مبارک اور مبشر السلام ہو ا یعنی دست تو دُعائے تو تر خم از خدا " راستے میں سڑک کے کنارہ پر دو مقبرے ہیں۔جین کا نام بیوی باندی کا مقبرہ مشہور ہے۔جو۔باندی کا ہے وہ تو بڑا ہے اور جو بیوی کا ہے وہ بہت چھوٹا سیا ہے اور اس کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ ایک لونڈی تھی جو بیوی کو بہت پیاری تھی تو میاں نے بیوی کے لحاظ سے اس کا مقبرہ خوب اچھی طرح بنوایا لیکن جب وہ بیوی مری تو اس کا مقبرہ بہت چھوٹا سا بنوا دیا کیونکہ اس سے کچھ محبت نہ تھی بلکہ کسی قسم کا لحاظ تھا جب لحاظ نہ رہا تو کسی کے دکھاوے کی کیا ضرورت رہی۔یہ واقعہ بھی بڑی عبرت کے قابل ہے۔والد صاحب حضرت مسیح موعود علیه السلام فرمایا کرتے تھے کہ جب آپ کے والد فوت ہوئے تو آپ کے بڑے بھائی کے رُعب سے بہت لوگ ان کی وفات پر اظہارِ افسوس کرنے آئے لیکن جب وہ خود فوت ہوئے تو چونکہ حضرت صاحب کا دنیا داری سے کچھ تعلق نہ تھا اور لوگ آپ کا اس قسم کا رعب نہ مانتے تھے۔کوئی پوچھنے تک بھی نہیں آیا کہ کیا حال ہے۔اور یہ واقعات ہمارے سامنے روز ہوتے ہیں، کوئی اچنبھے کی بات نہیں۔ہم روز مرہ دیکھتے ہیں کہ ایک معزز شخص کی زندگی میں تو اگر اُن کے نوکر کو بھی پھوڑا پھنسی نکل آوے تو بڑے بڑے معززین دوستی اور محبت جتلانے کے لئے فوراً حاضر ہوتے ہیں کہ سُنا ہے کہ آپ کے نوکر کو یہ تکلیف ہو گئی ہے، ہمیں سُن کر بہت صدمہ ہوا بڑا وفا دار نوکر ہے۔اور اس قسم کی سو سو باتیں بناتے ہیں لیکن اگر اس کا مالک اُٹھ جائے تو اگر اس کا اکلوتا بیٹا بھی دُکھ اور مصیبت میں ہو۔اور تکلیفوں نے اس کی کمر بھی توڑ دی ہو تب بھی کچھ توجہ نہیں ہوتی یا تو محبت کے دعوے ہوتے ہیں یا ایک ذرا سی مدت میں بات نفرت اور حقارت تک پہنچ جاتی ہے مگر یہ اُن ہی لوگوں کی بات ہے کہ جن کے دل نورِ ایمان سے خالی ہوتے ہیں اور دُنیا طلبی اُن کے خمیر میں ہوتی ہے جن کو اس شخص سے محبت نہیں ہوتی بلکہ اس کے جاہ وجلال سے ہوتی ہے ورنہ مجنوں کو تو سگ پہلی تک سے بھی