سوانح فضل عمر (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 277 of 367

سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 277

الہی سے وہ درجہ حاصل کیا کہ خدا نے آپ کے لئے موت حرام کر دی۔میرا مطلب ان بزرگ سے حضرت نظام الدین اولیا ہیں۔والد صاحب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بھی آپ سے ایک خاص اُنس تھا بلکہ آپ اُن کے حجرہ میں بھی تشریف لے گئے تھے اور وہاں دُعا بھی مانگی تھی۔غرض آپ کے مقبرے کی سیر کرتے ہوئے دل میں بار بار جوش آتا تھا کہ ایک تو وہ بادشاہ ہے کہ جس کے آگے شاہان زمان کے سرجھکتے تھے اور اُن کی قبر کو کیسی عالی شان عمارت کے نیچے ہے، مگر ویران۔اور ایک یہ فقیر ولی اللہ ہیں کہ گو بادشاہ ہمایوں سے بھی لے گزرے ہیں لیکن اب تک ان کے مقبرہ پر وہ رونق ہے کہ ایک گاؤں کا گاؤں بسا ہوا ہے۔خواہ کم قسم لوگ آپ کی قبر کی زیارت کو کسی غرض کے لئے ہی آئیں لیکن وہ جو دعائیں مانگ جاتے ہیں۔اس کا ثواب تو بہر حال آپ کو ملتا ہی رہتا ہو گا۔اس جگہ مشہور شاعر خسرو کے مزار کو بھی دیکھا۔یہ بھی حضرت نظام الدین صاحب کے خلفا میں سے تھے ایک اور چیز جو یہاں عجیب دیکھی وہ دنیا طلبی کا ایک نقشہ تھا یعنی یہاں ایک با ولی ہے جس کے ایک طرف ایک دیوار چلی جاتی ہے جو قریباً پچاس فٹ اونچی ہو گی اتنی بڑی اونچائی پر سے چند لڑکے کچھ پیسے لے کر کو دیتے ہیں اور اُن کا یہی پیشہ ہے انسان کے لئے یہ تادیر کا مقام ہے کہ دو چار پیسوں کے لئے ایک لڑکا پچاس فٹ اونچا جاتا ہے اور پھر زور سے پانی میں کود پڑتا ہے اور پھر اپنے آپ کو بچانے کے لئے تیر کر باہر آتا ہے۔اور یہ سب کچھ کس لئے ؟ چند پیسوں کے لئے تو پھر وہ ہزاروں ہزار احسانات جو خدا انسان پر کرتا ہے اور وہ بے شمار انعامات جن کا وعدہ کرتا ہے اُن کے بدلہ میں غافل ایک پیتا تک نہیں توڑنا چاہتا۔افسوس ! افسوس ! دنیا کی کچھ ایسی حالت ہو رہی ہے کہ یوں تو ایک کام کو لوگ تفریحاً روز کرتے رہیں گے لیکن اگر خدا کی طرف سے حکم آجا دے کہ یوں ضرور کیا کرو تو بہت سے آدمی فوراً اس کام کو چھوڑ دیں اور سو بہانہ بنانے کیلئے تیار ہو جاویں۔خیر اس کی سیر کر کے ہم آگے روانہ ہوتے اور منصور کے مقبرہ کی سیر کی۔یہ مقبرہ نواب منصور علی خان صفدر جنگ کا ہے۔ایک تو وہ زمانہ تھا کہ مسلمان ہر بات میں کمال رکھتے تھے مگر آج وہ زمانہ ہے کہ جس بات میں دیکھو زوال ہی زوال ہے۔نہ علوم و فنون کا شوق ہے نہ صنعت و حرفت کا نه انجنیری میں دخل ہے نہ زراعت و باغبانی سے واقفیت ہر بات میں اپنے ہمعصروں سے پیچھے ہی چلے جاتے ہیں اور یہ سب اسکا نتیجہ ہے کہ خدا کو چھوڑ بیٹھے ہیں جس کی وجہ سے خدا انہیں چھوڑ