سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 279
۲۷۹ پیار تھا۔بغرض کہ نیک لوگوں کی محبت نہایت بے غرضانہ ہوتی ہے۔ہاں جن لوگوں کے دلوں میں کھوٹ ہو اُن کی محبت بھی نفرت سے بھری ہوتی ہے۔اتنا فائدہ ضرور ہوتا ہے کہ ہر ایک شخص اس سے فائدہ اٹھا سکتا ہے کہ اصل تعلق اور پیار خدا سے پیدا کرے کیونکہ اس پر تو فنا نہیں نہ اس کی عظمت و شان جاتی رہے گی۔۔۔الغرض ہم قطب مینار پر پہنچے۔یہ دُنیا کی بے نظیر عمارتوں میں سے ہے اس سے اُونچی اور کوئی عمارت نہیں۔اس کے ساتے کھنڈ ہیں۔۔۔اس مینار کو دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ اس قدر اونچا مینار کس طرح بنایا گیا یور بین ستیاح بھی دیکھ کر سخت حیران ہوتے ہیں۔ہمارا تو بے اختیار سبحان اللہ کتنے کو دل چاہتا ہے کہ وہ عرب کا رہنے والا انسان جس کی نسبت حضرت عائشہ رضی اللہ عنها فرماتی ہیں کہ اسے بعض اوقات فاقہ تک گزر جاتا تھا، ایسا پاک اور خدا رسیدہ انسان تھا۔اس کے وجود میں خدا نے ایسی برکتیں پوشیدہ رکھی تھیں کہ خدا نے اُسے گھٹا می سے نکال کر ایک ایسے اونچے مقام پر کھڑا کیا کہ اس کے غلاموں کے غلاموں نے آپ کے نام کو ہندوستان جیسے بت پرست ملک میں آکر پھیلایا جن کے وجود سے بہندوستان میں ہزاروں مساجد تیار ہو ئیں۔چنانچہ یہ مینار ایسی ہی یادگار ہے۔مجمعہ کے دن ہفتہ کی رات کو ٹیگشن کے کمرہ میں میرا لیکچر تھا۔وقت پر و باد وہاں پہنچے تو کوئی چھ سات سو آدمی وہاں موجود تھا بعض روسائے دہلی بھی آتے تھے۔لیکچر انشاء اللہ تشحید الا زبان میں چھپ جائے گا۔میں نے جس طرح خدا تعالے نے سمجھایا وہاں بیان کیا کہ مذہب کیا ہے اور یہ کہ مذہب کی نشانی یہ ہے کہ وہ انسان کو خدا تک پہنچاتے اور اس سے تعلق پیدا کرواتے اور بنی نوع انسان میں نیکی اور امن قائم کرے اور چونکہ قرآن شریف ہمیں خدا تک پہنچاتا ہے، لیکن بر خلاف اس کے آریہ مذہب کے اصول ہمیں خدا تعالیٰ سے متنفر کرتے ہیں اس لئے اسلام تو سچا مذہب ہے اور آریہ سچا مذہب نہیں۔مثلاً اسلام خدا تعالیٰ کی صفات کے متعلق نہایت پاک تعلیم دیتا ہے لیکن آریہ مذہب خدا کو خالقیت سے جواب دے کر تناسخ کا قاتل ہو کر ابدی نجات کا انکار کرتے تو بہ کو لغو قرار دے کے ہمیں خدا تعالیٰ سے متنفر کر دیتا ہے جس سے اس کی لغویت ثابت ہوتی ہے۔اسی طرح اسلام اور آریہ مذہب کی تعلیم کا مقابلہ کر کے دکھلایا گیا کہ اسلام تو دنیا میں امن قائم کرتا ہے لیکن آریہ مذہب فساد ڈلواتا ہے۔۔۔چونکہ