سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 239
۲۳۹ THE کے اختیار میں ہے۔لیکن چونکہ یہ سلسلہ خدا کی طرف سے ہے اس لئے اس کی مدد کا یقین ہے۔بے شک ہماری جماعت غریب ہے لیکن ہمارا خدا غریب نہیں ہے اور اس نے ہمیں غریب دل نہیں دیتے۔پس میں امید رکھتا ہوں کہ جماعت اس طرف پوری توجہ کرے گی۔اور اپنی بے نظیر تہمت اور استقلال سے کام لے کر جو وہ اب تک ہر ایک کام میں دکھاتی رہی ہے اس کام کو بھی پورا کرنے کی کوشش کرے گی اور میں دُعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ مذکورہ بالا تحریر کو صرف ارادوں اور خواہشوں تک ہی نہ رہنے دے۔اور سلسلہ کی ضروریات کے پورا کرنے میں ہمارا ہاتھ بٹاتے سائے A ران علمی خدمات کے پیچھے قربانی اور ایثار شوق اور جذب کے جو جذبات کار فرما تھے، ان کا کچھ اندازہ ان ذاتی قربانیوں سے ہو سکتا ہے جو آپ نے اور آپ کے اہل بیت نے ان اخبارات و رسائل کے سلسلہ میں پیش کیں۔اس ضمن میں حضرت صاحبزادہ صاحب کی بعض بعد کی تحریرات کے چند اقتباس ناظرین کی دلچسپی کا موجب ہوں گے :- رو " مجھے اس وقت ساٹھ روپے ملتے تھے جن میں سے دس روپے ماہوار تو تشہیر پر خرچ کرتا تھا۔دو بچے تھے بیوی تھی اور کو کوئی خاص ضرورت تو نہ تھی مگر خاندانی طور طریق کے مطابق ایک کھانا پکانے والی اور ایک خادمہ بچوں کے رکھنے اور اوپر کے کام میں مدد دینے کیلئے میری بیوی نے بھی ہوئی تھی۔سفر اور بیماری وغیرہ کے اخراجات بھی اس میں سے تھے پھر مجھے کتابوں کا شوق بچپن سے ہے چنانچہ اس گزارہ سے اپنی علمی ترقی کے لئے اور مطالعہ کے لئے کتابیں بھی خرید تا رہتا تھا اور کافی ذخیرہ میں نے جمع کر لیا تھا یہ ہے بدر اپنی مصلحتوں کی وجہ سے ہمارے لئے بند تھا۔الحكم اوّل تو ٹمٹماتے چراغ کی طرح کبھی کبھار نکلتا تھا اور جب نکلتا بھی تھا تو اپنے جلال کی وجہ سے لوگوں کی طبیعتوں پر جو اس وقت بہت نازک ہو چکی تھیں بہت گراں گزرتا تھا۔دیوی ایک بالا ہستی تھی جس کا خیال بھی نہیں کیا جا سکتا له "بدر" قادیان در جون ۱۹۱۳، ص۱۷ تا ۲۰ له الفضل ۲۸ دسمبر ۱۹۳۹