سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 240
۲۴۴۰ تھا۔میں بے مال وزر تھا۔جان حاضر تھی۔مگر جو چیز میرے پاس نہ تھی وہ کہاں سے لاتا۔اس وقت بسلسلہ کو ایک اخبار کی ضرورت تھی جو احمدیوں کے دلوں کو گرماتے۔اُن کی شہستی کو جھاڑے۔اُن کی محبت کو اُبھارے، اُن کی ہمتوں کو بلند کرے اور یہ اخبار ثریا کے پاس ایک بلند مقام پر بیٹھا تھا۔اس کی خواہش میرے لئے ایسی ہی تھی جیسے ثریا کی خواہش۔نہ وہ ممکن تھی نہ یہ۔آخر دل کی بے تابی رنگ لائی۔اُمید کر آنے کی صورت ہوئی۔۔۔۔خدا تعالیٰ نے میری بیوی کے دل میں اسی طرح تحریک کی جس طرح خدیجہ رضی اللہ عنہا کے دل میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد کی تحریک کی تھی۔انہوں نے اس امر کو جانتے ہوئے کہ اخبار میں روپیہ لگانا ایسا ہی ہے جیسے کنوئیں میں پھینک دینا اور خصوصاً اس اخبار میں میں کا جاری کرنے والا محمود ہو جو اس زمانہ میں شاید سب سے زیادہ مذموم تھا اپنے دو زیور مجھے دے دیتے کہ میں اُن کو فروخت کر کے اخبار جاری کر دوں۔اُن میں سے ایک تو اُن کے اپنے کڑے تھے اور دوسرے اُن کے بچپن کے کڑے تھے جو انہوں نے اپنی اور میری لڑکی عزیزہ ناصرہ بیگم سلمہا اللہ تعالی کے استعمال کے لئے رکھے ہوئے تھے " بہ زیور حضرت صاحبزادہ صاحب نے خود لاہور جا کر پونے پانچ سو روپے میں فروخت کئے۔یہ تھا" الفضل" کا ابتدائی سرمایہ ! یہ جیسی قیمیتی امداد تھی اس کا اندازہ حضرت صاحبزادہ صاحب کے ان الفاظ سے لگایا جا سکتا ہے :- " اس حسن سلوک نے نہ صرف مجھے ہاتھ دیئے جن سے میں دین کی خدمت کرنے کے قابل ہوا اور میرے لئے زندگی کا ایک نیا ورق الٹ دیا بلکہ ساری جماعت کی زندگی کے لئے بھی ایک بہت بڑا سبب پیدا کر دیا۔۔میں حیران ہوتا ہوں کہ اگر اللہ تعالیٰ یہ سامان پیدا نہ کرتا تو میں کیا کرتا۔اور میرے لئے خدمت کا کونسا دروازہ کھولا جاتا اور جماعت میں روز مرہ پڑھنے والا فتنہ کس طرح دُور کیا جاسکتا ہے له الفضل ٢٨ دسمبر له صية - ٢٨