سوانح فضل عمر (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 234 of 367

سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 234

سهم ۳۳ ه والصعت : ١٠٣۔حضرت یوسف علیہ السلام نے بارہ برس کی عمر میں وہ کام کیا ہے کہ دیکھ کر حیرت ہوتی ہے۔پھر حضرت اسماعیل علیہ السلام کہ جب اُن کی عمر قریباً تو سال کی تھی تو اس وقت حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اُن کو فرمایا میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ میں تجھے ذیح کر رہا ہوں۔اس کو سُن کر آپ نے بڑی دلیری سے فرمایا کہ خدا کی جو مرضی ہے اسے پورا کرو۔چنانچہ قرآن شریف میں آتا ہے فَبَشِّرَ نَهُ بِغَامٍ حَلِيمٍ هِ فَلَمَّا بَلَغَ مَعَهُ السَّعَى قَالَ يَبْنَى إِنِّي أَرى فِي الْمَنَامِ انِّي أَذْبَحُكَ فَانْظُرْ مَا ذَا تَرَى قَالَ يَابَتِ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُ سَتَجِدُ فِي إِنْ شَاءَ اللهُ مِنَ الصَّبِرِينَ ALGOLDEN حضرت اسماعیل علیہ السلام نے اس چھوٹی سی عمر میں اپنی جان تک کی پرواہ نہیں کی اور فوراً خدا کی مرضی پوری کرنے کے لئے تیار ہو گئے پھر حضرت داؤد علیہ السلام نے بارہ برس کی عمر میں وہ کام کیا کہ حیرت اور سکتہ ہوتا ہے۔پھر حضرت عیسی علیہ السلام نے بھی جو کام ناصرہ اور اس کے گرد و نواح میں کیا وہ تینتیس برس کی عمر کے اندر ہی تھا۔۔۔۔دوسرے لوگوں میں بھی اس قسم کی بہت سی نظیریں مل سکتی ہیں۔حضرت علی رضی اللہ نے جوانی کی عمر میں ہجرت کے دن اپنی جان نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بدلہ خطرہ میں ڈال کر ہمارے لئے ایک نیک نظیر قائم کر دی ہے۔اور آپ لوگوں میں سے بہت سے اس سے واقف ہوں گے کہ بدر کی لڑائی میں چود کے چود دو برس کے دو لڑکے بھی شریک ہوتے تھے جنہوں نے ابو جبل جیسے کفایہ ملکہ کے سردار کو پہچان کر جا پکڑا اور بوجہ ہتھیار کے پاس نہ ہونے کے ایک اور صحابی کی مدد سے اس کو قتل کیا۔پس بے شمار نظیریں انبیائد کی اور اُن کے تابعین کی ایسی مل سکتی ہیں کہ انہوں نے نو جوانی کی عمر میں اسلام کی خدمت کی اور اس کا روشن چہرہ دنیا کے سامنے ظاہر کیا۔پس کیا وجہ کہ آجکل کے نوجوان اس کام سے پیلوستی کریں اللہ ++ سے ماہنامه تشخیة الازبان "قادیان جلد هم نمبر ۶ جولاتی نشده صد ۲۱ تا صد ۲۴۳