سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 228
KA ہم کو اطلاع مل چکی ہے کہ جب تک دنیا اصلاح نہ کرے گی، آسمانی اور زمینی عذاب پیچھا نہ چھوڑیں گے۔پس مبارک ہے وہ جو بھیڑیے کے حملہ سے پہلے اپنی بکریوں کو محفوظ جگہ میں بند کرلے اور بشارت ہے اس کے لئے جو چور کے آنے سے پہلے اپنے مال کو محفوظ کر لیتا ہے" قرآنی تعلیمات کے لئے غیرت حضرت صاحبزادہ صاحب کی فطرت میں داخل تھی اور ہمیشہ اس امر پر نگران رہتے تھے کہ اسلامی تعلیمات پر کوئی حملہ بغیر موثر جواب کے نہ رہے۔رسالہ قش حمید الاذھان " اس سلسلہ میں ایک عظیم خدمت سر انجام دے رہا تھا۔اور اکثر اعتراضات کے جوابات آپ خود اپنے فلم سے تحریر فرماتے۔نمونہ ایک اقتباس پیش ہے: آجکل مسلمانوں کی کچھ ایسی کمزور حالت ہے کہ دین و دنیا میں ذلیل ہوتے۔۔۔۔جاتے ہیں۔باوجود اس کے کہ اُن کو خدا نے ایسا مضبوط اور کامل دین دیا تھا کہ اگر یہ اس پر سکتے بستے تو ہر طرح اقبال اور نفرت ہی حاصل کرتے لیکن کو تا ہی قسمت سے تمام دنیا کے مسلمان اس پاک مذہب اسلام سے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جیسا نبی لایا تھا، بالکل غافل ہو گئے ہیں۔اور اوامر و نواہی تک سے بے خبر ہیں۔اسلام ایک ایسا پاک مذہب ہے کہ اس پر چلنے والے کسی ملک اور زمانہ میں کسی علم کے جاننے والے کے آگے شرمندہ نہیں ہو سکتے۔دنیا کے جس قدر سچے علوم ہیں وہ سب اسلام کے مطابق ہیں اور خدا کا قانون قدرت اسلام کے اصولوں کے بر خلاف کبھی واقعہ نہیں ہوتا۔مجھے تعجب ہے کہ غیر تو میں اگر اسلام کی تعلیم پر اعتراض کریں تو کچھ حرج نہیں، وہ تو مخالف ہی ہیں۔خود مسلمان کیونکر یہ کہنے لگ گئے ہیں که قرآن شریف کے بعض احکام اب حالات زمانہ کے بر خلاف ہیں، اس لئے ہم اب جو چاہیں کریں۔پایونیر کے ۲۸ نومبر ان کے پرچہ میں مجھے ایک مسلمان کہلانے والے صاحب کا یہ مضمون دیکھ کر بہت افسوس ہوا کہ اصل بات جو مذہب کی ہے وہ تو اعتقادی حصہ ہے۔باقی رہا عملی حصہ سو وہ زمانہ کے مطابق بدلتا رہتا ہے۔اس لئے قرآن شریف کے احکام پر عمل کرنا تشحيد الاذهان فروری شاه صلاه