سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 229
ہمارے لئے ضروری نہیں۔جیسا کہ آجکل سُود لینا جائز ہے۔میں اس وقت شود کے جواز یا ممانعت پر بحث کر کے جزئیات میں نہیں پڑنا چاہتا بلکہ اس اصل پر ایک نوٹ لکھنا چاہتا ہوں کہ آیا قرآن شریف کے احکام تبدیل ہو سکتے ہیں ؟ سو میں راقم مضمون مندرجہ پایونیر کی بات کو بہت حقارت سے دیکھتا ہوں کیونکہ اس صورت میں قرآن شریف پر یہ اعتراض آتا ہے کہ وہ انسانی کلام ہے خدائی نہیں۔کیونکہ خدا تو عالم الغیب ہے۔اس نے ہر زمانہ کے حالات کے مطابق قوانین کیوں نہ اتارے اور دوسری یہ بات ہے کہ اگر خدا تعالیٰ کا منشا تھا کہ یہ اُمت زمانہ کے حالات کے مطابق جب چاہیے اور قانون وضع کرے تو قرآن شریف کو ہر زمانہ اور ہر قوم کے لئے کیوں بھیجا ؟ اور یہ کہنا کہ اصول میں تو کچھ تبدیلی نہیں ہو سکتی اس لئے قرآن شریف پر کچھ اعتراض نہیں ہو سکتا ایک لغویات ہے کیونکہ اصل اصول تو مذاہب کا خدا کو واحد وقادر ماننا ہے۔سو یہ اور بہت سی قومیں مانتی ہیں۔اسلام کو خصوصیت کیا ہے اور اسلام کے بھیجنے کی ضرورت کیا پڑی۔اگر اس طرح عملیات کو چھوڑا جائے تو مذہب تو ایک ڈھکونسلا بن جائے۔ایک شخص کل اُٹھ کر کہے گا کہ آجکل روزے رکھنے حالات کے بر خلاف ہیں ، دُنیا تیرہ سو برس میں ترقی کر گئی ہے اس لئے اب یہ حکم منسوخ ہے۔دوسرا نماز کو فضول قرار دے گا۔تیسرا حج کو لغو اور چوتھا ز کوۃ کو بے ہودہ۔اس طرح اسلام ایک بازیچہ طفلاں بن جائے گا۔انسان کو چاہیئے کہ بات کہنے سے پہلے اس کو سوچ لے۔قرآن کا ایک ایک نکتہ اٹل ہے اور ہر ایک زمانہ میں اس پر عمل ہو سکتا ہے۔اس کا بھیجنے والا عالم الغیب ہے اور اس نے چونکہ قرآن شریف پر عمل کرنا ہر زمانہ میں ضروری قرار دیا ہے۔اس لئے اس کا ایک ایک کلمہ ہر زمانہ کے مطابق ہے اور جہاں کوئی خاص خصوصیت ہے وہاں اس نے خود بتا دیا ہے۔غرض مسلمانوں پر خدا کا احسان ہے کہ وہ کبھی شرمندہ نہیں ہو سکتے۔ہاں اگر کوئی خود اپنے آپ۔کو ذلیل کرے تو اس کا کیا علاج ہو سکتا ہے۔مرزا محمود احمد شعیدالا زمان جلد منهم