سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 227
۲۲۷ و مهدی محمود علیہ السلام کی پیشگوئیوں کا پورا ہونا ثابت کیا ہے۔اس مضمون کی ابتدا کیوں کرتے ہیں دنیا میں ایک نذیر آیا پر دنیا نے اس کو قبول نہ کیا مگر خدا اسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کر دے گا۔اے ہوئے زمین کے رہنے والو ! جن کے کانوں تک میری آواز پہنچ سکتی ہے یا جن کی آنکھیں میری تحریر کو دیکھ سکتی ہیں۔میں تمہیں اس نیکی کی طرف بلاتا ہوں جس کے پھیلانے کا ذمہ خود خدا نے اٹھایا ہے اور تم جانتے ہو جس کام کو چاہتا ہے، اپو را کرتا ہے اور کوئی نہیں جو اس کا سدراہ بن سکے۔اُس نے دنیا کا اختلاف دُور کرنے کے لئے اپنے بندوں میں سے ایک شخص کو چنا اور عرب کے ریگستان میں سے ایک ایسا درخت نکالا جس کے سایہ کے نیچے ہر گوشے کے لوگوں نے کروڑوں کی تعداد میں آرام پایا۔وہ وجود با وجود گم نامی کے کنج انزوا سے نکل کر شہرت کے اعلیٰ مقام پر پہنچا۔اور وہ علو مرتبہ حاصل کیا کہ سورج کی طرح اس پر بھی نظر نہیں ٹیک سکتی۔اسی کے بعد خدا تعالے نے تیرہ سوئیس بعد ایک اور تشخص کو اس کے خادموں میں سے جینا اور چاہا کہ اس کے ہاتھوں دنیا کو ہدایت دے۔چنانچہ وہ بھی پیش یا چھبیس برس تک دنیا کو اسی کے خالق کی طرف بلا کر چلا گیا۔سوچونکہ میں اُس کے خادموں میں سے ایک ہوں جن کا فرض ہے کہ دُنیا کو سچائی پر اگاہ کریں اور اس کی ہدایت میں کوشش کریں اس لئے آیت یا مُرُونَ بالمعروف کے ماتحت میں یہ اشتہار دیتا ہوں اور دنیا کے ہر گوشے کے لوگوں کو اس طرف متوجہ کرتا ہوں کہ وہ وقت کو ہاتھ سے نہ جانے دیں اور خدا تعالے کے سلسلہ میں داخل ہو کہ اپنی دنیا اور دین کو سنواریں کیونکہ وہ جو اس کے ارادہ کا مقابلہ کرتے ہیں خسر الدنیا و الأخيرة کے مستحق ٹھہرتے ہیں پس اگر چہ خدا کا مسیح ہم میں نہیں رہا مگر اس کا قائم کر دہ سلسلہ موجود ہے اور دن رات ترقی کر رہا ہے، اس میں شامل ہو کر آسمانی اور زمینی عذابوں سے بچو کیونکہ خدا ارادہ کر چکا ہے کہ دنیا سے شرک کو دور کرے اور توحید کو قائم کرے۔اور اس کے نبی کی معرفت 2۔۔