سوانح فضل عمر (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 193 of 367

سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 193

۱۹۳ بالآخر حضرت خلیفہ المسیح الاول کے حکم کے مطابق جماعت کے دو اڑھائی سو نمائندے تاریخ مقررہ پر اس اہم اور بنیادی مگر انتہائی نازک مسئلہ کے متعلق رائے دینے کے لئے مرکز میں جمع ہوئے۔۱۳۱ جنوری شائد کو شور میں منعقد ہوئی تھی۔۳۰ تاریخ کو نمائندگان مرکز میں پہنچ چکے تھے۔ہر ایک دل آنے والے دن کے انتظار میں بے چین تھا۔اس تاریخ کی رات بڑی ہی عجیب رات تھی اور یہ دن بڑا ہی نازک دن تھا۔بہتوں نے قریب جاگتے ہوئے یہ رات کائی۔اور قریباً سب کے سب تہجد کے وقت مسجد مبارک میں جمع ہو گئے تاکہ دعا کریں اور اللہ تعالیٰ ہے مدد اور رہنمائی چاہیں۔اس دن اس قدر درد مندانہ دعائیں کی گئیں کہ قادیان کی فضاء میں سوائے گریہ و بکا کے کچھ سنائی نہ دیتا تھا جبینیں آستانہ الوہیت پر جھکی ہوئی تھیں اور سجدہ گاہ میں آنسوؤں سے تر تھیں۔فجر کی اذان کے بعد حضرت خلیفہ اول نماز پڑھانے کے لئے میسجد مبارک میں تشریف لائے اور نماز شروع ہوئی۔بعض روایات سے پتہ چلتا ہے کہ صبح کی نماز سے قبل آپ کو الہاما سورۃ بروج کے پڑھنے کا حکم دیا گیا تھا اور بتایا گیا تھا کہ اس کے پڑھنے سے اکثر لوگوں کے دل نرم ہو جائیں گے۔چنانچہ اس کے مطابق آپ نے نماز میں اس سورۃ کی تلاوت فرمائی۔اگر چہ شروع سے لے کر آخر تک ساری ہی نماز سوز و گداز عجز ونیاز، گریہ و بکا " اور تضرع و خشوع کی تصویر بنی ہوئی تھی۔مگر جب آپ اس آیت پر پہنچے کہ : -- اِنَّ الَّذِينَ فَتَنُوا الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنتِ م لم يتوبو فلهم عذاب جـ ولهم عذاب الحريقه البروج ۱۰۸۵) تو مسجد میں درد ناک چیخوں سے ایک کہرام مچ گیا اور قلوب خشیت الہی سے پارہ پارہ ہونے لگے خود حضرت خلیفہ اول کی آواز بھی شدت گریہ سے رُک رُک جاتی تھی۔آپ نے جب دوبارہ اس آیت کی تلاوت فرمائی تو مخلصین جماعت کا وفور گریہ سے یہ عالم ہوا کہ کسی خون میں نہاتے ہوئے مرغ بسمل کی طرح اپنے لگے۔فرش مسجد سے کنگرہ ہائے عرش تک آہوں اور چیخ وپکار کا ایک شور بپا تھا۔اس واقعہ سے متعلق حضرت صاحبزادہ صاحب کا ایک اہم رویا انہی دنوں حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب نے ایک رویا دیکھا جسے بعد میں