سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 194
۱۹۴ حضرت خلیفہ اول نے کو بھی سنا دیا گیا تھا۔آپ فرماتے ہیں :- میں نے رویا میں دیکھا کہ مسجد میں جلسہ ہورہا ہے اور حضرت خلیفہ اول میں الی تقریر فرمارہے ہیں۔مگر آپ اس حصہ مسجد میں کھڑے ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بنوایا تھا۔اُس حصہ مسجد میں کھڑے نہیں ہوتے جو بعد میں جماعت کے چندہ سے بنوایا گیا تھا۔آپ تقریر مسئلہ خلافت پر فرما رہے تھے اور میں آپ کے دائیں طرف بیٹھا ہوں۔آپ کی تقریر کے دوران میں خواب میں ہی مجھے رقت آگئی اور بعد میں کھڑے ہو کر میں نے تبھی تقریر کی جس کا خلاصہ قریباً اس رنگ کا تھا کہ آپ پر لوگوں نے اعتراض کر کے آپ کو سخت دُکھ دیا ہے مگر آپ یقین رکھیں کہ ہم نے آپ کی پیچھے دل سے بیعت کی ہوئی ہے اور ہم آپ کے ہمیشہ وفادار رہیں گے۔پھر خواب میں ہی مجھے انصار کا واقعہ یاد آگیا۔جب اُن میں سے ایک انصاری نے کھڑے ہو کر کہا تھا، یا رسول اللہ ! ہم آپ کے دائیں بھی لڑیں گے اور باتیں بھی لڑیں گے، آگے بھی لڑیں گے اور پیچھے بھی لڑیں گے اور دشمن آپ تک نہیں پہنچ سکے گا جب تک وہ ہماری لاشوں کو روندتا ہوا نہ آوے۔اُسی رنگ میں میں بھی کہتا ہوں کہ ہم آپ کے وفادار ہیں اور لوگ خواہ کتنی بھی مخالفت کریں ہم آپ کے دائیں بھی لڑیں گے اور بائیں بھی لڑیں گے اور آگے بھی لڑیں گے اور پیچھے بھی لڑیں گے۔اور دشمن آپ کے پاس اس وقت تک نہیں پہنچ سکے گا جب تک وہ ہم پر حملہ کر کے پہلے ہمیں ہلاک نہ کرے۔قریباً اسی قسم کا مضمون تھا جو رویامہ میں میں نے اپنی تقریر میں بیان کیا۔مگر عجیب بات یہ ہے کہ جب حضرت خلیفہ اول رضی الله عنه تقریر یہ کرنے کے لئے مسجد میں تشریف لائے تو اس وقت میرے ذہن سے یہ رویا۔بالکل نکل گیا اور بجائے دائیں طرف بیٹھنے کے بائیں طرف بیٹھ گیا۔حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ نے جب مجھے اپنے بائیں طرف بیٹھے دیکھا تو فرمایا میرے دائیں طرف آبیٹھو۔پھر خود ہی فرمانے لگے تمہیں معلوم ہے کہ میں نے تمہیں دائیں طرف کیوں بٹھایا ہے ؟ میں نے کہا مجھے تو معلوم