سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 192
۱۹۲ اور سلسلہ تباہ ہو جائے گا۔“ اور سب لوگوں سے دستخط لئے گئے کہ حسب فرمان حضرت مسیح موعود علیه السلام با نشین حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی انجمن ہی ہے۔صرف دو شخص یعنی حکیم محمد حسین صاحب قریشی سیکرٹری انجمن احمدیہ لاہور اور بایو غلام محمد صاحب نورمین ریلوے دفتر لاہور نے دستخط کرنے سے انکار کیا اور جواب دیا کہ ہم تو ایک شخص کے ہاتھ پر بیعت کر چکے ہیں۔اور ہاتھ وہ ہم سے زیادہ عالم اور زیادہ خشیتہ اللہ رکھتا ہے۔اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ادب ہم سے زیادہ اس کے دل میں ہے جو کچھ وہ کسے گا ہم اس کے مطابق عمل کریں گے لے خلیفہ وقت کے خلاف اس شورش اور ساز باز کے دوران یہ سوالنامه حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کی خدمت میں بھی پہنچا۔آپ اسے پڑھ کر بہت متفکر ہوتے۔اپنے بشرح صد خلیفہ اول نہ کی بیعت کی تھی اور دل و جان سے عہد اطاعت باندھا تھا اور عقلاً بھی آپ خلافت کی ضرورت کے قائل تھے لیکن اس کے باوجود آپ نے مناسب سمجھا کہ جواب دینے سے پہلے اللہ تعالیٰ کے حضور بڑی عاجزی اور تضرع کے ساتھ رجوع کریں اور اسی سے رہنمائی چاہیں۔اسی حالت اضطراب اور دعا میں کئی دن گزر گئے اور آپ کوئی جواب نہ لکھ سکے۔آخر اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کی زبان پر یہ آیت جاری ہوئی : " قل مَا يَعْبُوا بِكُمْ رَبِّي لَوْلَا دُعَاءكُم اس آیت سے آپ کو یہ تقسیم ہوئی کہ جولوگ خلافتِ احمدیہ کے خلاف میں اُن کو خدا وند تعالیٰ کی طرف سے کہہ دو کہ یورپ کی تقلید میں کامیابی اور فلاح نہیں۔یہ دینی سلسلہ ہے اس لئے جس طرح خدا کے نبیوں کے خلیفے ہوتے رہے ہیں، اسی طرح یہاں بھی خلافت ہی ہوگی۔لیکن اگر وہ باز نہیں آئیں گے تو خدا کو اُن کی کوئی پرواہ نہیں۔کامیابی اسی میں ہے کہ وہ خدا کے حضور گر جائیں اور زاری کریں۔اگر وہ ایسا نہیں کریں گے تو خدا کا عذاب موجود ہے۔غرض اس طرح سے جب خدا نے آپ پر حقیقت واضح کر دی تو آپ نے اپنی راستے لکھ کر بھیج دی کہ خلیفہ انجمن پر حاکم ہے نہ کہ انجمن خلیفہ پڑی نام نها و علمبرداران جمہوریت اور معتقدین نظام خلافت کے مابین یہ نزاع اتنی اہمیت اختیار کر گیا کہ کے اختلافات سلسلہ کی تاریخ کے صحیح حالات ص ۲۰۱۱۹ سے اختلافات سلسلہ کی تاریخ کے صحیح حالات د ۲۳ الفضل ۲۸ ستمبر له من