سوانح فضل عمر (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 172 of 367

سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 172

۱۷۲ ظہور میں آیا ، قبول عام کی سند حاصل کر چکا ہے اور اس خصوصیت میں وہ کسی تعارف کے محتاج نہیں اس لٹریچر کی قدر و عظمت آج جبکہ وہ اپنا کام پورا کر چکا ہے ہمیں دل سے تسلیم کرنی پڑتی ہے۔اس لئے کہ وہ وقت ہر گز اوج قلب سے نیا منیا نہیں ہو سکتا جب کہ اسلام مخالفین کی یورشوں میں گھر چکا تھا اور مسلمان جو حا فظ حقیقی کی طرف سے عالم اسباب وسائط میں حفاظت کا واسطہ ہو کر اس کی حفاظت پر مامور تھے اپنے تصوروں کی پاداش میں پڑے سسک رہے تھے اور اسلام کے لئے کچھ نہ کرتے تھے یا نہ کر سکتے تھے۔ایک طرف حملوں کے امتداد کی یہ حالت تھی کہ ساری مسیحی دنیا اسلام کی شمع عرفان حقیقی کو سر راہ منزل مزاحمت سمجھ کے مٹا دینا چاہتی تھی اور عقل ودولت کی زبر دست طاقیتں اس حملہ آور کی نیشت گرمی کے لئے ٹوٹی پڑتی تھیں اور دوسری طرف ضعف مدافعت کا یہ عالم تھا کہ توپوں کے مقابلہ پر تیر بھی نہ تھے اور حملہ اور مدافعت دونوں کا قطعی وجود ہی نہ تھا۔۔۔۔کہ مسلمانوں کی طرف سے وہ مدا فعت شروع ہوئی جس کا ایک حصہ مرزا صاحب کو حاصل ہوا۔اس مدا فعت نے نہ صرف عیسائیت کے اس ابتدائی اثر کے پرخچے اڑاتے جو سلطنت کے سایہ میں ہونے کی وجہ سے حقیقت میں اس کی جان تھا اور ہزاروں اور لاکھوں مسلمان اسکے اس زیادہ خطرناک اور مستحق کامیابی حملہ کی زد سے بچ گئے بلکہ خود عیسائیت کا طلسم دھواں ہو کر اُڑنے لگا۔۔۔غرض مرزا صاحب کی یہ خدمت آنے والی نسلوں کو گرانبار احسان رکھے گی کہ انہوں نے قلمی جہاد کرنے والوں کی پہلی صف میں شامل ہو کر اسلام کی طرف سے فرض مدافعت ادا کیا اور ایسا لٹریچر یادگار چھوڑا جو اس وقت تک کہ مسلمانوں کی رگوں میں زندہ خون رہے اور حمایت اسلام کا جذبہ ان کے شعار قومی کا عنوان نظر آئے ، قائم رہے گا۔اس کے علاوہ آریہ سماج کی زہر علی کچلیاں توڑنے میں مرزا صاحب نے اسلام کی بہت خاص خدمت انجام دی ہے۔مرزا صاحب اور مولوی محمد