سوانح فضل عمر (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 171 of 367

سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 171

141 تو عمل کے اظہار سے حضرت مرزا صاحب علیہ السلام کی عظیم شخصیت کو اپنے اپنے رنگ میں خراج سین پیش کیا۔اگر چه کسی متعصب اخبارات نے اس موقع پر سخت غیر شریفانہ رویہ اختیار کیا لیکن دنیا تے صحافت میں ابھی وسعت حوصلہ باقی تھی اور انصاف عنقا نہیں ہوا تھا۔چنانچہ مشاہیر اہل قلم نے جو اظہار کیا۔اس کے چند نمونے ذیل میں پیش کئے جاتے ہیں۔مولانا ابوالکلام آزاد نے لکھا :- شخص بہت بڑا شخص جس کا قلم سحر تھا اور زبان جادو۔وہ شخص جو دماغی عجائبات کا مجسمہ تھا جس کی نظر فتنہ اور آواز حشر تھی جس کی انگلیوں سے انقلاب کے تا۔اُلجھے ہوئے تھے اور جس کی دو مٹھیاں بجلی کی دو بیٹریاں تھیں۔وہ شخص جو نہ ہی دنیا کے لئے تیس برس تک زلزلہ اور طوفان رہا جو شور قیامت ہو کے خفتگان خواب اہستی کو بیدار کرتا رہا۔خالی ہاتھ دُنیا سے اُٹھ گیا۔۔۔مرزا غلام احمد صاحب قادیانی کی رحلت اس قابل نہیں کہ اس سے سبق حاصل نہ کیا جاوے اور مثانے کے لئے اُسے امتداد زمانہ کے حوالے کر کے صبر کر لیا جائے۔ایسے لوگ جن سے مذہبی یا عقلی دنیا میں انقلاب پیدا ہو ہمیشہ دنیا میں نہیں آتے۔یہ نازش فرزندان تاریخ بہت کم منظر عالم پر آتے ہیں اور جب آتے ہیں، دنیا میں انقلاب پیدا کر کے دکھا جاتے ہیں۔میرزا صاحب کی اس رفعت نے اُن کے بعض دعا دی اور بعض معتقدات سے شدید اختلاف کے باوجود ہمیشہ کی مفارقت پر مسلمانوں کو ہاں تعلیم یافتہ اور روشن خیال مسلمانوں کو محسوس کر دیا ہے کہ اُن کا ایک بڑا شخص اُن سے جدا ہو گیا۔اور اس کے ساتھ مخالفین اسلام کے مقابلہ پر اسلام کی اس شاندار مدافعت کا جو اس کی ذات سے وابستہ تھی، خاتمہ ہو گیا۔اُن کی یہ خصوصیت کہ وہ اسلام کے مخالفین کے برخلاف ایک فتح نصیب جزئیل کا فرض پورا کرتے رہے ہمیں مجبور کرتی ہے کہ اس احساس کا کھلم کھلا اعتراف کیا جاوے تاکہ وہ مہتم بالشان تحریک جس نے ہمارے شمنوں کو عرصہ تک پست اور پامال بنائے رکھا، آئندہ بھی جاری رہے۔مرزا صاحب کا لٹریچر جو مسیحیوں اور آریوں کے مقابلہ پر اُن سے