سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 173
قاسم صاحب نے اس وقت سے کہ سوامی دیانند نے اسلام کے متعلق اپنی دماغی مفلسی کی نوحہ خوانی جا بجا آغاز کی تھی، اُن کا تعاقب شروع کر دیا تھا۔ان حضرات نے عمر بھر سوامی جی کا قافیہ تنگ رکھا۔جب وہ اجمیر میں آگ کے حوالے کر دیئے گئے اس وقت سے اخیر عمر تک برابر مرزا صاحب آریہ سماج کے چہرہ سے انسویں صدی کے ہند و ریفارمر کا چڑھایا ہوا ملمع اتارنے میں مصروف رہے۔اُن کی آریہ سماج کے مقابلہ کی تحریروں سے اس دعویٰ پر نہایت صاف روشنی پڑتی ہے کہ آئندہ ہماری مدافعت کا سلسلہ خواہ کسی درجہ تک وسیع ہو جائے، نا ممکن ہے کہ یہ تحریریں نظر انداز کی جا سکیں۔فطری ذہانت اعشق و مهارت اور سلسل بحث و مباحثہ کی عادت نے مرزا صاحب میں ایک شان خاص پیدا کر دی تھی۔اپنے مذہب کے علاوہ مذہب غیر پر بھی اُن کی نظر نہایت وسیع تھی اور وہ اپنی ان معلومات کا نہایت سلیقہ سے استعمال کر سکتے تھے۔تبلیغ و تلقین کا یہ ملکہ اُن میں پیدا ہو گیا تھا کہ مخاطب کسی قابلیت یا کسی مشرب وملت کا ہو۔اُن کے برجستہ جواب سے ایک دفعہ ضرور گہرے فکر میں پڑھاتا تھا۔ہندوستان آج مذاہب کا عجائب خانہ ہے اور جس کثرت سے چھوٹے بڑے مذاہب یہاں موجود ہیں اور با ہمی شکش سے اپنی موجودگی کا اعلان کرتے رہتے ہیں اس کی نظیر غالباً دنیا میں کسی جگہ سے نہیں مل سکتی۔مرزا صاحب کا دعویٰ تھا کہ میں ان سب کے لئے حکم و عدل ہوں لیکن اس میں کلام نہیں کہ ان مختلف مذاہب کے مقابلہ پر اسلام کو نمایاں کر دینے کی اُن میں بہت مخصوص قابلیت تھی اور یہ نتیجہ تھی اُن کی فطری استعداد کا ذوق مطالعہ اور کثرت مشق کا۔آئندہ امید نہیں ہے کہ ہندوستان کی مذہبی دنیا میں اس شان کا شخص پیدا ہو جو اپنی اہلے خواہشیں محض اس طرح مذاہب کے مطالعہ میں صرف کر دے“۔- (بحوالہ تبد یا قادیان ارجون شنشله ص ۳۰۲) ۸