سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 148
دوسرے ظاہری اسباب سے قومی تر قرار دیں تو ہرگز مبالغہ نہ ہوگا۔اس زاویہ نگاہ سے حضرت صاحبزادہ صاحب کی شخصیت کا جائزہ لیں تو یہ تسلیم کئے بغیر چارہ نہیں کہ آپ اپنے والد کو گھرے اندرونی مشاہدہ کے بعد اور لمبے عرصہ پر پھیلے ہوئے ظاہر و باطن آثار کے مطالعہ کے نتیجہ میں مخلص صادق القول اور حق پرست یقین کرتے تھے اور اس یقین کے نتیجہ میں جس قسم کے مثبت اثرات آپ کی شخصیت پر مترتب ہونے چاہتے تھے وہ اسی طرح مترتب ہوئے۔اسی کا نتیجہ تھا کہ آپ اسی مقصد کے لئے ہمہ تن وقف ہو گئے جس کے حصول کی خاطر آپ کے عظیم باپ کا ایک ایک لمحہ وقف تھا۔آپ نے اس راہ میں اسی طرح جانی اور مالی اور جذباتی قربانیاں دیں جسطرح جلیل القدر باپ زندگی بھر دیتا رہا اور اسی طرح اس راہ میں دُکھ پر دُکھ جھیلے اور مشقتوں پرمشقتیں اٹھائیں۔غرضیکہ وہ تمام آثار اس کے فکر و عمل میں ظاہر ہوئے جو قوی یقین اور پختہ ایمان کے بغیر ظاہر نہیں ہو سکتے۔ظاہر ہے کہ وہ بچپن کا زمانہ جو کسی سوانح نگار کے دم تحریر سے ستر بریں پیچھے رہ چکا ہو۔اس کے تمام خدو خال تو کیا، اُن کے ایک حصہ کو بھی از سر نو اُجاگر کرنا کوئی آسان امر نہیں۔اگر چہ یہ درست ہے کہ مختلف راویوں اور مضمون لکھنے والوں نے جو آپ کے بچپن کے ساتھی تھے، مختلف وقتوں میں مختلف واقعات پر روشنی ڈالی ہے لیکن نہ تو ان کا حضرت مرزا محمود احمد سے ملاپ کا زمانہ آپ کے تمام بچپن پر حاوی ہو سکتا تھا نہ ہی اُن کی یاد داشت از سر نو ہر نقش کو اجاگر کر سکتی تھی۔اس کمی کو پورا کرنے کے لئے ہمیں بار بار خود حضرت مرزا محمود احمد صاحب کے ان بیانات اور فرمودات کا سہارا لینا پڑتا ہے جو آپ نے اپنی بڑی عمر کے زمانہ میں کسی مضمون کے تعلق میں بیان کئے۔یہ بیانات چونکہ خود اپنی صداقت کی اندرونی شہاد میں لئے ہوتے ہیں۔لہذا کسی اہل بصیرت اور صاحب فراست انسان کے لئے اُن کی صداقت پر شک کرنے کا سوال پیدا نہیں ہوتا نمونہ کے طور پر دو واقعات پیش ہیں۔ایک چھوٹا سا سادہ سا واقعہ ہے جو بہت بچپن کا معلوم ہوتا ہے اور دوسرا نسبتا تخته عمر یعنی عنفوان شباب کا واقعہ معلوم ہوتا ہے۔پہلے کی اہمیت اس کی سادگی اور تصنع سے پاک معصومانہ بیان میں ہے اور دوسرے کی اہمیت اس بنا پر بڑی بھاری ہے کہ ایک خطر ناک اور اچانک بحران کے وقت حضرت صاحبزادہ صاحب کے فوری اور بے ساختہ رد عمل کا اس میں ذکر ہے اور اس سے بھی بڑھ کر قابل غور اور انمول وہ تبصرہ ہے جو آپ نے ایک عجیب محویت کے عالم میں ڈوب کر خود اس واقعہ پر کیا ہے۔