سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 147
۱۴ م باپ کی صداقت بر آپ کا ایمان اور اس کے نتائج حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد کی آئندہ زندگی کا رُخ معین کرنے کے لئے بہت سے اسباب کار فرما تھے۔جو ظاہری بھی تھے اور باطنی بھی عمومی بھی تھے اور خصوصی بھی ایسے عوامل میں سے جو عمومی حیثیت رکھتے ہیں اور نیچے کی شخصیت کی تعمیر پر لازم نہایت گہرے رنگ میں اثر انداز ہوتے ہیں ایک نہایت اہم عامل کا اب تم جائزہ لیں گے جس نے آپ کی شخصیت کی تعمیر میں ایک نا قابل فراموش اور نہایت اہم کردار ادا کیا۔سوائے اس کے کہ بچہ نہایت کند ذہن ہو کوئی ماں باپ اپنے بچے سے اپنی اندرونی شخصیت کو چھپا نہیں سکتے۔خواہ وہ شخصیتیں لاکھ جبل اور فریب کے پردوں میں لیٹی ہوئی کیوں نہ ہوں اور یہ امر بھی قطعی اور ناقابل تردید ہے کہ بچے کے خیالات کا رخ معین کرنے اور اس کی اندرونی شخصیت کے خد و خال بنانے میں سب سے اہم کردار اس کے ماں باپ کی وہ اندرونی تصویر ادا کرتی ہے جو خود اس کے دل و دماغ پر بنتی چلی جاتی ہے۔اس کے نتیجہ میں نفسیاتی الجھنیں بھی پیدا ہوتی ہیں۔اسی کے نتیجہ میں ذہنی بغاو میں بھی جنم لیتی ہیں اور اسی کے نتیجہ میں اعلیٰ مقاصد کی پیروی میں سرتا یا وقف مخلص اور صادق القول شخصیتیں بھی ابھرتی ہیں۔غرضیکہ نیکی اور بدی میں نمایاں کردار ادا کرنے والوں کے نفسیاتی پس منظر کا اگر تجزیہ کیا جائے تو یہ کہنا مبالغہ آمیز نہ ہوگا کہ اُن کے والدین کے متعلق اُن کی رائے کو ان کے کردار کے بگاڑنے یا بنانے میں گہرا دخل ہوتا ہے جو رائے غیر شعوری طور پر لمبے تجربات اور محسوسات کے نتیجہ میں از خود ان کے دل ودماغ میں قائم ہوتی چلی جاتی ہے اور اس راستے کے نتیجہ میں پیدا ہونے والی منفی یا مثبت جذباتی تحریکات اس کی اپنی شخصیت کو اس طرح ڈھالتی چلی جاتی ہیں جیسے کمہار کے ہاتھ میں گندھی ہوئی مٹی ڈھلتی ہے ہے۔ہمیں تسلیم ہے کہ یقیناً یہ شخصیتوں کی تعمیر و تخریب کا واحد سبب نہیں اور ہم باخبر ہیں کہ اللہ تعالٰی کے وسیع کارخانہ مشیت میں ان گنت اسباب اور محرکات نامعلوم طور پر اپنا اپنا کام کر رہے ہیں جو کچھ انسان کے محدود علم کے احاطہ میں داخل ہے اسے دیکھتے ہوئے ہم مذکورہ بالا ایک سبب کو اگر سب